ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 65 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 65

(۸)ایک جگہ جناب نے تاریخ کبیر بخاری کا حوالہ دیا ہے کیا وہ جناب کے کتب خانہ میں ہے یا نہیں ؟ (۹)بعض احادیث کی تخریج نہیں فرمائی اس کو کس جگہ دیکھا جاوے۔میرا مطلب یہ ہے کہ جناب نے ان احادیث کو کہاں کہاں سے لیا ہے جس کا ذکر کتاب میں فرمایا ہے؟ (۱۰)عقل ، قانون قدرت ،فطرت کس حد تک مفید ہیںیا یہ چیزیں شریعت کے سامنے اس قابل نہیں کہ ان کا نام لیا جاوے۔تعارض عقل و نقل۔تعارض اقوال شریعت و سنت اللہ مقابلہ فطرت و شرع کے وقت کو نسی راہ اختیار کی جاوے۔مختصر جواب بدوںدلائل کافی ہو گا۔(۱۱) تفسیر بالرائے اور متشابہات کے کیا معنی ہیں ؟ کوئی ایسی تفسیر جناب کے خیال میں ہے کہ وہ تفسیر بالرائے سے پاک ہو اور متشابہات کو ہم کس طرح پہچان سکتے ہیں ؟ مورخہ ۱۸؍فروری۱۹۰۰ء از قادیان ( الحکم جلد۴، نمبر۱۵، مورخہ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۰ ء صفحہ۶،۷) قرآن کریم کیونکر آسکتا ہے ؟ حضرت مولانامولوی نورالدین صاحب سلّمہ ربّہ سے اکثر دفعہ لوگوں نے سوال کیا ہے کہ قرآن کریم کیوں کر آسکتا ہے؟ حکیم الامت نے اس سوال کا جواب یوں دیا ہے۔قرآن کریم سے بڑھ کر سہل اور آسان کتاب دنیا میں نہیں مگر اس کے لئے جو پڑھنے والا ہو۔سب سے پہلے اور ضروری شرط قرآن کریم کے پڑھنے کے واسطے تقویٰ ہے۔اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ متقی کو قرآن پڑھادے گا۔طالب علم کو معاش کی طرف سے فراغت اور فرصت چاہئے۔تقویٰ اختیار کرنے کی وجہ سے اس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچتا ہے کہ کسی کو معلوم بھی نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ خود متکفّل ہوجاتا ہے۔پھر دوسری شرط قرآن کریم کے سمجھنے کے واسطے مجاہدہ ہے یہ مجاہدہ خدا میں ہوکر ہونا چاہئے۔پھر مشکلات کا آسان ہوجانا اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔