ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 57 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 57

مولانا مولوی نور الدین صاحب کا گرامی نامہ قرآن کریم کی عظمت کو قائم کرنے کی ایک نظیر ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر شبلی صاحب نے اس کا جواب حق و حکمت کی راہ سے دیا اور اس پر توجہ کرنی ضروری سمجھی تو مسلمانوں کی خوش قسمتی سے ایک بہت بڑی فائدہ کی بات نکل آوے گی اور ان کو وہ روشنی کا مینار نظر آ جاوے گا جو آج مسلمانوں کو ہلاکت کے بھنور سے نکلنے کے لئے رہنما ہو سکتا ہے۔خدا کرے کہ ہمارے مخدوم مولاناکی کوشش کار گر ہو۔اٰمین۔ایڈیٹرالحکم۔(وہ خط یہ ہے ) مولانا المکرم المعظم ! (ا)بعض موانع کے باعث آپ کے اشتہار کی نسبت رائے اور کر م نامہ کے متعلق جواب دینے سے قاصر رہا ہوں اس لئے عفو کا طالب بھی ہوں۔(۲)مجوزہ مسوّدہ پہنچا اور پورا غور سے پڑھا۔حسب الارشاد رائے اور ارادہ دونوں عرض خدمت ہیں جناب نے رائے پو چھی اگر خلاف طبع بھی ہو تو ملامت کاموجب نہ رہے۔ (البقرۃ:۲۸۷)۔وَالْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمِنٌ۔مورخ اور ادیب کو گو رائے دینا آسان نہیں۔مگر قال اللہ اور قال الرسول نے کچھ آسان ہی دکھایا۔(۳)مولانا جس راہ پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں چلایا ہے اور اس پر علیٰ وجہ البصیرت ہمیں آگاہی اور استقامت بخشی ہے اس میں اور اس دوسری راہ بل راہوں میں جن کو اس وقت کے مدبّران اصلاح اور فلاح قوم تجویز کرتے اور قدم مارتے۔آہ! بون بائن ہے۔(۴)خاکسار نے سید کی تحریروں مولوی چراغ علی کے عجائبات، نواب صدیق حسن خان کے صد ہا رسائل، السید مہدی علی کے لکچرز اور مضامین، مولوی عبد الحی کے مباحث، السید امیر علی کی لائف آف محمد،احکام فقہ، مولانا محمد شبلی کے قابل قدر رسائل اور اس کی بے نظیر سوانح عمریاں پڑھیں اور بہت غور سے پڑھیں۔(۵)میں ان پر نہ اس وقت کوئی ریویو کرتا ہوںاور نہ اس عریضہ میں حضور کے مجوزہ نوٹس پر ریمارک ہے نہ اس راہ پر کوئی بحث ہے جس کو زمانہ کے اقتضا کے موافق ہمارے امام و مقتداء