ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 58
قادیانی نے اصلاح و فلاح قوم کے لئے مولیٰ کریم جَلَّتْ عَظْمَتُہ سے الہام پا کر (سید مرحوم والا الہام نہیں بل مکالمہ الٰہیہ)ہمیں اس پر چلانا چاہا ہے۔صرف ایک رائے آپ کے نوٹس پر۔ایک سوال کے پیرایہ میں بحضور ملازمان والا پیش کرتا ہوں۔از راہ فتوّت و مروت اس پر توجہ مبذول ہو اور پھر جواب بھی چاہتا ہو ں۔قرآن کریم کی غایت اور اس نور ،فضل، ہدایت ، شفا اور رحمت کا اپنی تعلیم میں اعلیٰ مقصد کیا ہے ؟ اس الکتاب اور لاریب فیہ مِنْ ربّ العالمین کی ہدایات پر پوری طرح آگاہی حاصل کر کے اور اس کے انوار اور افادات سے کامل طور پر مستنیر و مستفید ہو کر ایک شخص اپنے اندر اور اپنے اعمال میں وہ کونسا امر پیدا کرلیتا ہے جو اس میں اور دیگر مذاہب یا کتب الہامیہ کے پیرومیں فارق اور ما بہ الامتیاز ہو جاوے ؟ (۶)میری غرض یہ ہے کہ وہ کمال مطلوب الانسان کا کیا ہے جس تک قرآن مجید پہنچا دیتا ہے اگر اس کو دستور العمل بنایا جاوے اور دیگر مذاہب و ادیان اور کتب سماویہ اس حد تک پہنچا نے سے قاصر ہیں اگرچہ ان پر اس وقت عمل کیا جاوے؟ اولڈ ٹسٹمنٹ اور عہد جدید۔ژند وستا۔گاہنہ اور دساتیر، رگوید، یجر، سام اور اتھر بن بدھ کی تعلیمات آج محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمارے سامنے موجود ہیں ذرہ بھی مشکل نہیں اگر ہم توجہ کریں اور ان کتب کے سچے پیرو بھی موجود ہیں۔مولانا! خوش کن دعوے تو تمام ادیان میں موجود ہیں۔مر کر ہمیں کیا ملے گا ؟برہمو بھی جس کے پاس کوئی کتاب نہیں ہم کو بتلاتا ہے۔میرا منشاء اس سے مواعید سے نہیں۔ممکن ہے مواعید عرقوب ہو ں یا مواعید صادقہ۔میرا مطلب یہ ہے کہ ا س عالم دنیا میں جہاں ہم اس وقت موجود ہیں بقائمی ہوش و حواس وہ عملی آثارو علامات کیا ہیں جو قرآن کریم کو دستور العمل بنانے کے لئے مختص ہیں؟ کامل نہ سہی بطور نمونہ ہی حاصل ہو جاویں۔یہ کیوں عرض کرتا ہوں ؟ اس عالم میں وہ عملی آثار و آیات کون سے ہیں جن سے قرآن مجید کی باہر ہ حجت اور واضح سلطان کو ہم دوسروں پر