ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 53
ناتجربہ کار نیچری نے غلط کہا ہاں تجھی سے کہ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ فَقَدْ تَسَنّ وَ تَصَانَ۔بَطْنُ الْاَنْبِیَائِ صَامِتٌ ۱؎ اس پاک عنایت کا مکالمہ تیرا ہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان کو مجاز بولنے پر مجبور کردیا ہے اور اس کہد پر ۲؎ (کھ۔دھ ر) کے کنارے پر کہ ہم کیاکریں۔اور تو نے اس اپنے بندے کو جو میرے لئے دعا کررہا تھا کہا ( العنکبوت: ۴۴) کیا دنیا میں سمعی یقینات کی شہادت اس سے زیادہ ملنا ممکن ہے؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔یہی امر ملائکہ اور کتب اور یوم آخرۃ کے عجائبات پر بھی بس نہیں بلکہ نبوت و قدر کے مسئلہ پر بھی گو دونوں اور ذرائع سے بھی ثابت ہوچکے ہیں۔احادیث۳؎ پر اعتراض بھی اسی کے لگ بھگ ۱؎ حاشیہ۔یہ حضرت مولانا المکرم کا الہام ہے آپ نے بارہا ذکر کیا ہے کہ ایک بار میں معمول سے کسی قدر زیادہ کھانا کھا گیا۔پیٹ میں ریح ہوئی اس پر مولا کریم نے مجھے فرمایا بَطَنُ الْاَنْبِیَائِ صَامِتٌ۔یہ الہام آپ کے وارث علوم الانبیاء اور معلم القرآن ہونے پر ایک زبردست شہادت ہے اور خود حضرت اقدس امام الزمان سلمہ الرحمن نے آپ کی نسبت فرمایا ہے کہ مولوی صاحب کی تفسیر آسمانی تفسیر ہوتی ہے۔(ایڈیٹر) ۲؎ حاشیہ۔یہ بھی مولانا کے الہام ہیں یہاں ان کو صرف اس وجہ سے حضرت مولانا نے درج فرمایا ہے چونکہ آپ خدا تعالیٰ کی ہستی پر وجوہ ایمان سے ایک وجہ یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ تجھ سے بھی سنا اس لئے اس کے ثبوت میں یہ چند الہام لکھے ہیں یہاں ان کی تشریح کی ہم کو کوئی ضرورت نہیں۔خود مولانا صاحب نے نہیں لکھی اور عندالدریافت یہ اپنے خاص اسرار بتلائے۔(ایڈیٹر) ۳؎ حاشیہ۔ہم ذرا تفصیل کے ساتھ اس امر کو بیان کردینا ضروری سمجھتے ہیں۔بعض ناعاقبت اندیش احادیث پر اعتراض کرتے ہیں کہ چونکہ یہ سمعی باتیں ہیں اور بعد ازوقت لکھی گئی ہیں لہٰذا قابل یقین نہیں؟ اس کے جواب میں حضرت مولانا صاحب نے لکھا ہے کہ اگر تمام سمعیات قابل اعتبار نہیں ہوتیں تو پھر دنیا میں کسی چیز پر بھی اعتبار نہیں رہے گا اور سب سے انکار کرنا پڑے گا۔والدین کے والدین ہونے سورج کے سورج ہونے غرض ہر ایک بات کے وجود میںشک کرنا پڑے گا یہاں تک خدا تعالیٰ کے وجود میں بھی اور تمام حقائق الاشیاء سے منکر ہونا پڑے گا جو ببداہت باطل ہے۔پس معلوم ہوا کہ یہ اعتراض احادیث کی عدم صحت پر صحیح نہیں ہے۔(ایڈیٹر)