ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 50
الہام میں ملہم کو غلطی ہوتی ہے یا نہیں جس کا پتہ ذَھَبَ وَھْلِیْ اور سفر حدیبیہ سے لگ سکتا ہے۔مولوی صاحب ! آج کل تو فتن دجال کے باعث بائبل ہر ضلع میں مل سکتی تھی آپ نے تاریخ کی دوسری کتاب کا اٹھاراں باب دیکھ لیا ہوتا تو جناب کو کمثل الصبح معلوم ہو جاتا کہ یہ سلیمان کا اعتراض من سلیمان ہے یا نہیں۔کیا خوب ہے جو شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فوزالکبیر میں یہود کے حالات لکھتے ہوئے ان علماء پر متوجہ ہو کر فرماتے ہیں۔اگر نمونہ یہود خواہی کہ بینی علمائے سوء۔۔۔۔۔۔تماشا کن کانھم ھُم۱؎ اور مجدد الف ثانی رحمۃاللہ تو ان کو اور ان کے طلبہ کو نصوص دین لقب سے ملقب فرماتے ہیں۔جناب نے گوامام الوقت مسیح الزمان لکھ کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ لکھا مگر مرزا صاحب کے الفاظ مرسل یزدانی اور ان کے مرید وں کے واقعی نہ بطور استعارہ و مجاز بل حقیقت کے طور پرمرسل یزدانی کو جناب نے خود ہی استعارہ و مجاز کے نیچے لانا پسند فرما کر کہا ہے کہ کیوں ایسے دھوکے کے الفاظ استعمال میں لائے جاویں۔جناب من! یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا تو اس کتاب کی بھی صفت ہے جو اختلاف مٹانے کو نازل ہوئی اور جس کا نام نور، ہدایت، رحمت، فضل، شفاء ہے۔پس اگرنا فہم ابتلاء میں پڑے تو کیا جرح ہے۔کیا حتّٰی یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ ضروری نہیں۔عبودیت کا قرار جو ہمارے سید و مولیٰ خاتم النبیین رسول ربّ العٰلمین صلی اللہ علیہ وآلہٖ الیٰ یوم الدین نے فرمایا وہ واقعی اور سچا اور بجا تھا جیسے ایک مامور من اللہ کا مجدد مرسل یزدانی ہونا سراسر حق اور حقیقت پر مبنی ہے مرسل یزدانی کا کہنا خود توحید کا قرار ہے۔اس طعن کے بعد کہ مرسل یزدانی کہنا دھوکا دہی ہے حالانکہ خود حضرت مرزا صاحب اپنے آپ کو مرسل من اللہ یقین کرتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ آپ کی تصنیف کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں یہ ہے العجب۔۱؎ الفوز الکبیر فی اصول التفسیر صفحہ ۹