ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 49
پھرعامہ مومنین کا سچا اور پکا قول ہے جب ان کو کہا جاوے پڑھو کلمہ تو لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہتے اور پڑھتے۔بہرحال قرآن مجید کو ترک کر کے کہاں سے کہاں جا پہنچے۔قرآن کی تفسیر بیضاوی سوا پائویا سوا سیپارہ عمل کے لئے نہیں بل اس لئے کہ اس میں علم ادب کے نکات ہیں پڑھ لیتے ہیں۔جناب من! میں نے جب سے حضرت مسیح موعود اور مہدی مسعود، مرسل یزدانی، ملہم ربانی مرزا غلام احمد قادیانی سلمہ اللہ کا دامن پکڑا ہے مجھے ان لوگوں کے مقابلہ پر لکھنے کے لئے میرے دوست اور احباب نے بارہا مجھے ایماء ً اور بالآخر صریحاً کہا کہ تو بھی کوئی کتاب لکھ بلکہ بعض ہمارے آشنائوں نے سخت الفاظ سے بھی کہا۔کل کی بات ہے جب آپ کا خط مجھے مولانا الامام علیہ السلام نے دیا ، تو میرے قابل قدر دوست نے بلند آواز سے فرمایا نور الدین کب لکھے اور کب صاحب خط کو جواب ملے اس وقت میرے دل پر جو گزرا اس کا انداز ہ بشر کا کام نہیں وہ میرے مولیٰ کریم کو معلوم ہے۔کچھ اپنے پر کچھ اپنے ملائوں پر غم کر کے خاموش ہو گیا لِکُلِّ امْرِئٍ مَانَوٰی۔میری خاموشی کا باعث کچھ تو میری کم مائیگی کچھ جوش شدید کا عطا نہ ہونا کہ مجھے مجبول ہو کر کام کرنا پڑے اور بڑا سبب یہ ہے کہ ان کا جواب وہی ( مچئی) کیسی بہت کتا بیں لکھوانا ہے یہ لوگ ہمیشہ بہادری میں پھنسنا پسند کرتے ہیں اور اسی میں خوش ہیں۔غور کر لو۔گو صرف و نحو ضروری ہیں مگر مبادی۔پھر نہایت خطرناک غلط منطق میں کہ جو کچھ ہے سو ہے مگر مبادی میں سے۔اگر میںنے کہا بھی تو یہ مبادی کو غایت پر ناپسند کر کے وقت کو تباہ کریں گے۔مامور من اللہ تو معذور ہے اس کی باتیں نرالی وہ تواس جماعت کا انسان ہے جو یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمََرُوْنَ آخر جناب نے بھی مبادی سے ’’ سخت کھٹکا ‘‘ کی دقت اٹھائی۔آپ سوچتے کہ لَوْ فَرَضْنَا بِفَرْضِ مُحَالٍ اَوْ فَرْضِ غَیْرِ صَحِیْحٍحوالہ غلط ہے تو اصل بات کیا ہے آیا تاویل ا