ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 48

پنجابی لوگ تنبوڑی اور مہذب لوگ زنبور کہتے ہیں یہ نہایت عمدہ حاشیہ ہے بات بات پر اعتراض کرتا ہے واہ کیا خوبی ہے۔جناب من! وہ شرح یا اس کی اور اخوات ان کی معراج کا پہلا زینہ ہے جس کی سدرۃ المنتہیٰ کا نتیجہ سلیمان کی غایت المرام بھی ہے۔غایۃ کے بعد سنا ہے کہ اس کا اور مکالمہ بھی شائع ہواہے غالباً وہ ان کا نزول ہو گا۔وَاِلَّا فَلَیْسَ لِلْغَایَۃِ غَایَۃٌ۔ہاں میری اس تحریر پر وہ اعتراض کر سکتے ہیں مگر جناب فہم والے انشاء اللہ تعالیٰ سمجھ بھی لیں گے کہ ہیچ نیست و اعتراض ہیچ نیست۔ایام طالب علمی میں بمقام رامپور ( رو ہیلکھنڈ) طلبہ موجودہ سے سوال کیا گیا کہ میرزاہدرسالہ اور میر زاہد امور عامہ بل ملّا جلال جو تعلیم میں ہے کس علم کی کتابیں ہیں تو ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔یہ صرف خیالی باتوں میں جھگڑنے والے کیا کہتے۔اَلضَّرْبُ زدن پر پہنچانے کی سکت نہ تھی۔مولانا ان کی بد قسمتی سے یا ان کے ابتلا کے لئے ان کے مختار اور پسندیدہ اُن کتابوں میں جن کو یہ قرآن کریم کی طرح یاد کرتے ہیں بلکہ میرے ایک بوڑھے اور آپ کے قریب رہنے والے دوست نے ذکر کیا کہ ان کے ہم مکتب نے اسی ایک متن کی شرح پر چالیس حواشی کو سبقاًسبقاً پڑھ کر اَنَا وَلَا غَیْرِیْ کا عہدہ حاصل کیا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ لَااِلٰـہَ غَیْرُکَ۔قرآن کریم کے مخالف لفظ کلمہ کی تعریف کی گو لِکُلٍّ اَنْ یَّصْطَلِحَ کا عذر اس کے لئے گھڑا جاوے گا مگر اِذَا جَائَ نَھْرُاللّٰہِ بَطَلَ نَھْرُ مَعْفَلِ اور وہ تعریف قرآن مجید کے مخالف، احادیث صحیحہ کے مخالف، عام اہل اسلام کے مخالف۔کلمہ کو لفظ مفرد کہا ہے جو صدق کا متحمل نہیں ہو سکتااو رقرآن کریم فرماتا ہے   (الانعام : ۱۱۶)اور رسول رئوف رحیم کا ارشاد ہے اَصْدَقُ کَلِمَۃٍ قَالَہَا …لَبِیْدٌ اَلَا کُلُّ شَیْئٍ مَاخَلَا اللّٰہُ بَاطِلٌ(صحیح البخاری ،کتاب مناقب الانصار باب ایام الجاھلیۃ)۔