ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 47
کتابیں اور تھوڑا سااپنا محدود علم ہے بل اگر آیت کریمہ(فاطر : ۲۹) کے لحاظ پر اُن کا امتحان لیا جاوے تو ان کو عالم کہنا اور ان کے چند طر ہات کو علم سمجھنا صحیح نہیں۔ان کی شامتِ اعمال سے ان کو ابتدا ہی میں ضَرَبَ یَضْرِبُ ضَرْبًا پڑھایا گیا اور یہ خود بھی پڑھاتے ہیں۔ضارب کامبتد ابننے کی لیاقت اور سکت ان میںکہاں تھی کہ کہتے اَنَا ضَارِبٌ آخر نامردی سے بول اٹھے فَھُوَ ضَارِبٌ۔آپ کو مجھے محبت ہے اور مجھے آپ سے اخلاص۔پس اگر میں یہاں یہ فقرہ لکھ دوں کہ آخر آپ نے بھی مرزا صاحب پر اور آپ کے صادق کلام پر ٹھوکر کھائی تو سلیمان کی قضا پر۔اَیْ فَھُوَ ضَارِبٌ لَا اَنَا ضَارِبٌ۔تعجب ہے کہ آپ ذہین ہوشیار نوجوان اور سمجھدار ہو کر دھوکے میں آ گئے اور ذر ہ بھی خیال نہ کیا کہ ایک طرف ایک عظیم الشان دعویٰ کا مدعی اپنی تحریر میں بائبل کے حوالہ سے کچھ لکھتا ہے اور دوسری طرف ایک ملاّ صاحب اس کی تکذیب کرتے ہیں۔پس ہمیں کم سے کم مناسب ہے کہ نقل کی تصحیح تو کرلیں۔علم مناظرہ کے ابواب میں آپ صاف پائیں گے کہ نقل کے لئے تصحیح کافی ہے۔آپ تصحیح نقل کر لیتے توآپ کو’’ سخت کھٹکا ‘‘ کا صدمہ نہ پہنچتا۔جناب من ! جس باب سے علوم کی ابتدا ہوئی ہے اس میں ضرباً کا لفظ لفظ فعلاً کے قریباً مساوی ہے اور غالباً پہلوں نے اس عموم کو خیال کیا ہو مگر ان خلف نے تو اَلضَّرْبُ زدن وَالْقَتْلُ کشتن ہی سیکھا۔پس جن کے لئے الف یہ ہے انہوں نے یا تک کیا کیا سیکھا ہو گا۔مجھے یاد ہے کہ میں جب کم عمر تھا ایک میرے پنڈداد ن خانی دوست نے بڑے فخر اور طمطراق میں آکر اور بقدر عقل خود عمدہ بات خیال کر کے مجھے کہا کہ میں نے ایک صرف ہوائی کی یا بہائی کی ایک شرح پیدا کی ہے۔اس کا نام ( مچئی ) ہے اور مچئی پشتو میں بَرْ کو کہتے ہیں جسے عام