ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 44
کبھی مولوی عبدالجبار وغیرہ کے نام لکھے گئے کوئی غرض اور غایت بجز اس کے نہ تھی کہ تامسلمانوں پر رحم کر کے ان کو اس ٹھوکر سے بچایا جاتا اور اُس صدمہ سے محفوظ رکھا جاتا جو ان کو اس ابتلا سے پہنچ سکتا تھا۔مگر افسوس اور صد افسوس کہ ان لوگوں کو رحم نہ آیا اور حوصلہ نہ پڑا کہ ان الہامات کو شائع کرتے یا ان کی ایک نقل ہی جیسا کہ مانگی گئی تھی دیتے۔مولانا صاحب کے اس خط پر یہی جواب دیا گیا کہ ہمارے پاس کوئی نقل نہیں اور بجائے اس کے کہ مولانا صاحب کی اس درد دل کی جو ان کو مسلمانوں کی ایسی حالت پر ہمیشہ پہنچتا ہے کچھ قدر کی جاتی اور ان کے سچے اخلاص سے فائدہ اٹھایا جاتا یہ مشہور کیا گیا کہ حضرت مولانا صاحب نے معاذ اللہ حضرت اقدس سے قطع تعلق کر لیا ہے۔غرض جھوٹی اور ناپاک افواہیں اُڑائی گئیں جن کی تردید الحکم کے ذریعہ ہم خود اور حضرت مولانا کے خطوط سے کر چکے ہیں اور اس خط کے اندراج کا وعدہ بھی کیا تھا علاوہ اس کے ملہم پارٹی کے نام خطوط کے سلسلہ میں سے یہ ایک خط ہے اس لئے اس کو درج کرنا ضروری سمجھا۔اُمید ہے کہ ہمارے ناظرین اور عام پڑھنے والوں کے لئے فائدہ سے خالی نہ ہو گا اور وہ گرامی نامہ یہ ہے۔( ایڈیٹر الحکم ) بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علٰی رسولہ الکریم۔خاتم الانبیاء واٰ۔لہ مع التسلیم من نور الدین الی الفاضل عبدالجبار اما بعد۔السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ فقیر خاکسار نے آپ کی کتاب تلبیس ابلیس بھیج دی ہے انشاء اللہ تعالیٰ پہنچی ہو گی اس وقت اپنا رضاعی برادر حافظ محی الدین ایک دینی غرض کے لئے روانہ کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ اِنَّ الدُّنْیَا قَدْ فَسَدَتْ بِلَادُھَا عَامِرَۃً وَہِیَ خَرَابُ الْاَمْنِ کَانَ اللّٰہُ وَفِی عَوْنِ اللّٰہِ فَلَہُ الْفَوْزُ وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۔جناب من! ایک درد مند دل جس کو الٰہی رضامندی مقصود ہے وہ بھی بعض وقت اپنی بعض غفلتوں اور نادانیوں سے ابتلا میں پھنس کر ہلاکت تک پہنچ سکتا ہے۔وَلَا عِصْمَۃَ اِلَّالِمَنْ