ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 45
عَصِمَہُ اللّٰہُ اس واسطے مجھے ایمان بَیْنَ الْخَوْف وَ الرِّجَآئِ مل جاو ے تواُمید واثق ہے کہ میرا انجام اچھا ہو۔ہاں میں جہاں تک اپنے آپ کو دیکھتا ہوں میرے لئے ایک بات بحمد اللہ موجود ہے کہ میں الٰہی رضا کا طالب اور اس کا امیدوار ہوں اور غضب الٰہی سے خائف اور خائف فی اللیل والنہار ہوں۔میں نے بایں اعتقاد اوّل کتاب اللہ او رپھرسنت رسول اللہ کو ایام فتن میں اپنے دائیں بائیں ہمیشہ رکھا ہے اور آئمۃ الاسلام، آئمہ اربعہ فقہا اور آئمۃ التفقہ و الحدیث بل ائمۃ اہل التصوف کی محبت کو بھی بحمد اللہ لمحہ کے لئے نہیں چھوڑا۔اگر آپ سوچو تو عبدالواحد کو اپنی لڑکی امامہ رحمہا اللّٰہ کا نکاح تمہارے والد ماجد کی محبت کا ہی ثمرہ تھا۔ابتدا سے میرے کانوں میں شیخ الاسلام الشیخ ابن تیمیہ و تلمیذ الشیخ ابن قیم کی مذمت پہنچی مگر میرا دل ان کی محبت سے پُر ہے۔میں موافق اور مخالف کی باتیں سن لیتا ہوں مگر مجھے بحمد اللہ اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی محبت میں ترقی ہوتی ہے میں نے دنیا کے بڑے بڑے تعلقات اور آمدنی کو جو بظاہر مفید عام ہوتی ہے یا راحت رساں ترک کر کے قادیان کی اقامت چند ایسے ہی امور پر نظر کر کے اختیار کر لی ہے۔میری عمر کا بڑا حصہ گزر گیا ہے اور کم باقی معلوم ہوتا ہے قسم قسم کے امراض آئے دن لاحق ہوتے ہیں اس لئے میں کون سی دنیوی امید پر مولی کریم کو ناراض کرنے کی جرأت کر سکتا ہوں۔میں نے تجربۃً الہامات الٰہیہ میں مرزا غلام احمد قادیانی کو صادق یقین کیا ہے اور ہر طرح کامل ارادہ اور استقلال سے اس کا ساتھ دیا ہے۔دنیا کے لعن و طعن کی پروانہ کی۔وَھٰذَا اَمْرٌ ظَاہِرٌ اَجِدُ الْاِخْفَائَ فِیْہِ آفتاب آمد دلیل آفتاب۔لا کن آجکل ایک عظیم الشان امر پیش آ گیا ہے جس میں آپ سے اعانت چاہتا ہوں۔وَاَعْتَقِدُ اَنَّ الْمُعِیْنَ ھُوَ اللّٰہُ یَارَبَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی اعانت بمصداق مَاکَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِیْہِ الْمُسْلِمِ کَانَ اللّٰہُ فِیْ عَوْنِہٖباعث برکات ہو گی اور وہ امر عظیم یہ ہے کہ مجھے میاں الٰہی بخش اکائونٹنٹ اور عبدالحق الغزنوی اور مولوی محی الدین لکھو کے والے اور آپ کے حدَّاد کی نسبت بھی