ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 42 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 42

ہے اس کے لئے(طٰہٰ :۱۱۵) (کہ اے رب میرا علم بڑھا)۔آیا منشاء شرور جہل ہے اسے (ھود :۴۷) (میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے نہ ہو)کہہ کر ہٹایا۔احسان کی ترغیب  (الاعراف :۵۷) (اللہ تعالیٰ کی رحمت احسان کرنے والوں کے قریب ہوتی ہے)سے ظاہر ہے اور مدمقابل کی برائی  (البقرۃ :۲۰۶) (اور جب پیٹھ پھیرے دوڑتا پھرے ملک میں کہ اس میں ویرانی کرے اور ہلاک کرے کھیتیاں اور جانیں اور اللہ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا)سے عیاںہے۔معاد اور قیامت کا اعتقاد معاد اور قیامت کا اعتقاد جو ہر خوبی اور نیکی اور دلی محبت وسلوک کا سرچشمہ اور تمام خوشیوں اور امیدوں کی غایت ہے ایسے دلائل قویہ قانون قدرت سے مستحکم کیا ہے کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں۔جادو ٹونے سے ممانعت اور تاکیدی امر ہاں علوم میں جادو ٹونے نجوم کا عملی حِصّہ وغیرہ روایات سے  (ا لبقرۃ : ۱۰۳) (اور پیچھے لگے ہیں اس علم کے جو پڑھتے تھے شیطان سلطنت میں سلیمان کی)فرما کر منع فرمایا۔تمام امت کو کس امر کی تاکید کی؟ امت کو کیا کام سپرد کیا ؟   (اٰل عمران :۱۱۱) (یعنی تم سب امتوں سے جو پیدا ہوئیں بہتر ہو لوگوں میں پسندیدہ باتوں کا حکم کرتے ہو اور بُری اور ناپسندیدہ باتوں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو)۔اسلام کی خوبی اسلام کی خوبی کیا بتائی مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہ مَالَا یَعْنِیْہِ (سنن ابن ماجہ کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ حدیث ۳۹۷۶)یعنی اسلام کے معترف مسلمان کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے فائدہ غیر مقصود چیز کو چھوڑ دے اور پھر ایمان کا مدار اس پر رکھا لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی