ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 390 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 390

زمانہ گزشتہ کے حال سے آگاہ ہے۔سارے کا سارا اس کے حضور میںسامنے ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔حضرت موسیٰ سے فرعون نے پوچھا تھا کہ  ( طٰہٰ : ۵۲) پہلے لوگ جو گزر گئے ان کا کیا حال ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔۔۔۔۔ (طٰہٰ : ۵۳)اس کا علم میرے رب کے پاس ہے۔وہ ازلی ابدی خدا سب باتوں سے آگاہ ہے کوئی شے اس سے چھپی ہوئی نہیں۔اس کو سچے علوم سے آگاہی ہے کوئی شے اس کو بھولی ہوئی نہیں۔سرّ واخفٰی اللہ تعالیٰ کی وہ ذات پاک ہے جس کو تمام سچے علوم سے آگاہی حاصل ہے۔(طٰہٰ : ۵۳) وہ خدا سرّاوراخفٰی کو جانتا ہے۔سرّوہ ہے جس کو اگرچہ ہم بظاہر نہیں جانتے تا ہم اس وقت کسی انسان کے دل میں موجود ہے۔مثلاً ایک انسان اپنے دل میں ایک خیال رکھتا ہے جس کو وہ کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتا اور پوشیدہ رکھتا ہے اس کو عربی زبان میں سرّکہتے ہیں۔سو خدا تعالیٰ سرّ کو بھی جانتا ہے۔لیکن اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ اخفٰیکو بھی جانتا ہے۔اخفٰیوہ خیالات ہیں جو آج سے مثلاً دس برس یا بیس برس بعد انسان کے دل میں پیدا ہوں گے جن کی اس انسان کو بھی خبر نہیں کہ وہ کیا ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ اس اخفٰیکو بھی جانتا ہے۔پس کیا ہی خوش قسمتی انسان کی ہے کہ اس سرّ اور اخفٰیسے آگاہ اور واقف کار ذات نے اس کے واسطے ایک کتاب عطا فرمائی۔جب یہ لوگ پیدا بھی نہ ہوئے تھے اس وقت سے خدائے علیم نے ان کی ضروریات روحانی کے پورا کرنے کے واسطے یہ کتاب نازل فرمائی۔پہلوں کو حقیر نہ جانو! اس زمانہ کے نو تعلیم یافتہ لوگ بدقسمتی سے اگلے آدمیوں کو دقیانوسی، کھڑکنا اور اولڈفیشن اور دیگر اس قسم کے مذموم ناموں سے یاد کرتے ہیں۔لیکن وہ نہیں جانتے کہ ہمارے پاس وہ کتاب ہے اور محفوظ حالت میں ہے جو کہ خالق فطرت کا کلام ہے۔ایسی کتاب کے ہوتے ہوئے ہم کیوں کر کسی سے پیچھے رہ سکتے ہیں۔یہی وہ کتاب ہے کہ