ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 387
فی الارواح و المشاہد و المحسوسات ہے مگر اکثر کہانیاں۔مامور من اللہ گو درجہ لقا کو پہنچ جائے باذن اللہ کام کرتا ہے۔اس میں اور صاحب توجہ میں ایک یہ بھی فرق ہے کہ صاحب توجہ اپنی نسبت کامیابی کا یقین نہیں کرسکتا۔اکثر ناکام مرتا ہے۔حضرت سے نقل ہے کہ فلاں آدمی گو ایسے ایسے کام کرتا ہے مگر ناکام نا مراد مرجائے گا۔ایسا ہی ہوا۔سید جمال الدین صاحب عروۃ الوثقیٰ (اخبار مصر)جس کا شاگرد شیخ عبدہ ہے بڑا صاحب قوت روحانی تھا یعنی قدرت اس کی روح میں کمال تھی۔ہر ایک سلطان کو ماتحت کرلیتا اور دنیا ادھر سے ادھر کردیتا تھا آخر ناکام ہی جوانی میں مرگیا۔کفر و اسلام سے اسے کچھ تعلق نہیں ہے ہاں خدا سے ان لوگوں کا پیار ہے گو رضا کی راہ سے ناواقف ہیں۔(۱۷)۔عمل، تعویذ، دم جو واقعی موثر ہیں ان کا گُرو ہی توجہ ہے۔ایسے لوگ اپنی نفرت کے متعلق کچھ نہیں کرسکتے۔دعا والے عجیب طور سے کامیابی پہ کامیابی دیکھتے ہیں۔(۱۸)۔قرآن میں دوبارہ آیتیں آنے کی فلاسفی یہ ہے کہ ہر جلسہ میں اپنے اپنے مذاق اور نصرت اور حالت کے موافق ہر ایک سامع فیضان پائے صرف ایک بھی مضمون سے یہ مطلب حاصل نہیں ہوتا۔بعینہ لفظ بار بار لانا شعراء کا بھی دستور ہے جو فصاحت کے خلاف نہیں ہے بلکہ عین فصاحت! گو وجوہ اور مواقع الگ الگ ہیں اور بعض الفاظ میں ایک خاصیت اور تاثیر ہوتی ہے جو اس موقع کے موافق اور محل کے مناسب ہوتی ہے دوسرے الفاظ میں نہیں ہوتی مضمون گو ایک ہی ہو تاکید کرنی بھی مطلوب ہوتی ہے جو اسی لفظ سے پیدا ہوتی ہے۔(۱۹)۔حضرت مسیح پر وہی آیات نازل ہوں تو معانی اَور مراد ہوتے ہیں۔زیارت النبی تمثل ہے اور یہ تمثل معانی اور اعیان بلکہ ذات اللہ سبحانہ کا بھی ہوتا ہے۔شاہ ولی اللہ نے حضرت ختم الرسالت کوپھر (حالت اولیٰ) پھر انسانی صورت پر دیکھ کر حضور سے تعبیر پوچھی تو آپ نے اوپر کا تعلق الٰہی زیادہ نیچے کا تعلق بخلق تھوڑا اور پہر حالت ثانیہ عکس اولیٰ اور حالت ثانیہ ہر دو برابر تاویل فرمائی۔ممکن ہے کہ رؤیامیں جس کو دیکھیں وہ بعینہ نہ ملے بلکہ اس کا تمثل ہو چنانچہ پوچھیں تو مرئی انکار کرتا ہے۔اَلشَّیْطَانُ لَایَتَمَثَّلُ بِیْ بعینہ صورت کے متعلق ہے۔اگر