ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 383
قسم کے قلب ہیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں۔آپ کا ایک رؤیا غرض عصر کے بعد حضرت اقدسؑ تشریف لائے اور مجھے فرمایا کہ میں ہواخوری کے واسطے جاتا ہوں کیا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں گے۔میں نے عرض کیا کہ ہاں۔چنانچہ رستے میں میں نے اپنا ایک رویا بیان کیا جس میں مَیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اور عرض کیا تھا کہ کیا حضرت ابوہریرۃؓ کو آپ کی احادیث بہت کثرت سے یاد تھیں؟ اور کیا وہ آپ کی باتوں کو ایک زمانہ بعید تک بھی نہیں بھولا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ہاں۔میں نے عرض کیا کہ کیا کوئی تدبیر ہو سکتی ہے کہ جس سے آپ کی حدیث نہ بھولے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ قرآن شریف کی ایک آیت ہے جو میں تمہیں کان میں بتا دیتا ہوں۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا منہ مبارک میرے کان کی طرف جھکایا اور دوسری طرف معاًایک شخص نورالدین نام میرے شاگردنے مجھے بیدار کر دیا اور کہا کہ ظہر کا وقت ہے آپ اٹھیں۔یہ ایک ذوقی بات تھی کہ میں نے مرزا صاحب کے سامنے اسے پیش کیا کہ کیوں وہ معاملہ پورا نہ ہوا۔اس پر آ پ کھڑے ہوگئے اور میری طرف منہ کر کے ذیل کا شعر پڑھا ؎ من ذرہ ز آفتابم ہم از آفتاب گویم نہ شبم نہ شب پرستم کہ حدیث خواب گویم پھر فرمایا جس شخص نے آپ کو جگایا تھا اسی کے ہم معنی کوئی آیت قرآن کریم کی ہے اور وہ یہ ہے(الواقعۃ : ۸۰) الغرض یہ تو ایک پہلا بیج تھا جو میرے دل میں بویا گیا اور حضرت مرزا صاحب کی سادگیء ِ جواب اور وسعت اخلاق اور طرزِ ادا نے میرے دل پر ایک خاص اثرکیا۔مجاہدہ میں اس وقت تو واپس چلا گیا اور پھر جلد ہی آیا اور عرض کیا کہ آپؑ کی راہ میں مجاہدہ کیا ہے؟ اس کے جواب میں آپؑ نے فرمایا کہ مجاہدہ یہی ہے کہ عیسائیوں کے مقابل پر ایک کتاب لکھو۔میں نے عرض کیا کہ بعض سوال اس قسم کے ہوتے ہیں جن میں الزامی جواب ہی دشمن کو