ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 376
میرے اعمال بد کے نتائج بدسے تو مجھے محفوظ رکھ اور آئندہ غلطیوں سے میری حفاظت کر۔یعنی جو غلطیاں مجھ سے پہلے سرزد ہو چکی ہیں ان کے نتائج بد اور سزا سے بچا اور حفاظت میں لے لے۔اور آئندہ تیری ایسی حفاظت میرے شامل حال ہو کہ گناہ مجھ سے سرزد ہی نہ ہوں۔ہر گناہ کا نتیجہ سزا ہوتا ہے اور ابتلا۔توممکن ہے کہ انسان کی دعا یا تو بوجہ اس کے گناہوں کے قبول ہی نہ ہو۔اور اگر قبول ہوبھی تو ابتلا کے رنگ میں ہو۔اصطفٰی اور اجتبٰی کے رنگ میں نہ ہو۔اسی واسطے استغفار کا پڑھنا درد دل اور سوز سے ضروری ہے۔تیسرا ضروری امر یہ ہے کہ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کا ورد بھی درد دل سے کرے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی نیکی، سکھ اور فضل و فیض کے جذب کی توفیق مجھ کو نہیں۔میرا کوئی علم، طاقت اور عمل کافی نہیں۔غرض یہ کہ میں کسی فضل اور رحمت کے پانے کا اقتدار نہیں رکھتا اور نہ ہی مجھ میں کوئی ایسی قوت اور طاقت ہے کہ جس کے ذریعہ سے میں کسی دکھ، مصیبت، کم علمی، جہل و نادانی یا بدعادت و گناہ کو ترک کرسکوں یا مقابلہ کر سکوں۔اِلّا باللہ مگر اللہ کے فضل اور توفیق سے۔مختصر یہ کہ ایصال خیر اور دفع شرکی مجھ میں طاقت اور قوت نہیں بجز اس کے کہ اللہ کی خاص توفیق شامل ہو۔غرض استغفار تو اس لیے کہ ہماری دعائیں … کسی ابتلا کا باعث نہ ہو جاویں اور لاحول اس واسطے کہ ہمارا علم کافی نہیں اور اظہار عجز کے واسطے سچا اضطراب، لا حول، استغفار پڑھ کر دعائیں کرنے کے بعد بھی اگر کچھ دیر قبولیت دعا میں ہو تو کچھ صدقہ خیرات کر دے۔صدقہ بھی قبولیت دعا کا ایک راز ہے۔حدیث میں آیا ہے اِنَّ الصَّدَقَۃَ تُطْفِیئُ غَضَبَ الرَّبِّ (المعجم الاوسط جزء۷ حدیث نمبر ۷۷۶۱) بعض مصائب شدائد صدقہ سے ٹل جاتے ہیں۔صدقہ ردّ بلا۔عام طور سے مثل کے طور پر مشہور ہے۔ممکن ہے کہ کوئی گناہ یا خدا کی ناراضگی قبولیت دعا کے واسطے روک ہورہی ہو اور ہمیں اس کا علم نہ ہو وہ صدقہ سے ٹل جاوے اور پھر قبولیت دعا کا دروازہ کھل جاوے۔پھر درود پڑھے جس کا مطلب یہ ہے کہ میں درد دل سے آنحضرت ﷺ کے لیے خاص