ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 375
جوش اور تڑپ سے خدا کے حضور التجا کرے کہ اے خدا وند! تجھ سے بڑھ کر کوئی بھی عالم نہیں۔تو ہر ایک انسان کے دل کی حالت اور اس کی تسلی کے باریک در باریک ذریعہ سے بھی واقف ہے اور تجھ سے لطیف در لطیف دلائل اور براہین جو حق اور باطل میں تمیز کرنے کا باعث ہوں اور کون جان سکتا ہے۔پس تو ہی مجھ کو اپنے رحم سے حق کی ہدایت فرما اور دل کو صراط مستقیم کے قبول کرنے کی توفیق و طاقت عنایت فرما۔فرمایا۔مسائل مختلف فیہ میرا اپنا یہی طریق عمل ہے اور میں ہمیشہ سے اسی راہ پر قائم ہوں۔اَللّٰھُمَّ اعْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ۔خدا سے بڑھ کر اس مطلب کے لیے اور کون موزوں اور مناسب ہے اور بجز خدا کے اور کون ہے جو دل کی تسلی و تشفی کر سکے۔دل اسی کے ہاتھ میں ہیں اور وہی دلوں کا مالک اور متصرف ہے۔خدا سچے اضطراب کو قبول فرماتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں وارد ہے۔(النمل: ۶۳) اور پھر فرمایا ہے (المومن:۶۱)اور پھر فرماتا ہے کہ(البقرۃ : ۱۸۷) قرآن شریف کا ابتداء بھی دعا سے ہے اور پھر انتہا بھی دعا پر ہوا ہے۔پس ان سب باتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص دعا کرتا ہے اور اس دعا کے واسطے سچی تڑپ، اضطراب اور حق کی تلاش کا جوش ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ضرورا س کے واسطے حق کی راہیں کھول دیتا ہے۔دعا ایک ایسی چیز ہے کہ جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہے وہ قبولیت دعا کو بھی مانتا ہے۔لیکن بعض اوقات دعا کی قبولیت میں انسان کے اپنے گناہ روک ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات دعا کی قبولیت بجائے ہدایت کے ضلالت اور ابتلا کا باعث ہو جاتی ہے۔جیسا کہ قرآن شریف کی آیت ذیل سے معلوم ہوتا ہے۔(البقرۃ: ۲۷) پس اس کا علاج استغفار مقرر کیا گیا ہے کہ دعا کرنے سے پہلے انسان بہت بہت استغفار کرے۔انسان غلطی سے پاک نہیں لہٰذا خدا کے حضور التجا کرے کہ یا الٰہی