ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 371
اے اللہ میرے دل کو نور سے بھردے۔میری آنکھوں میں، میرے کانوں میں، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے اوپر، میرے نیچے، میرے آگے، میرے پیچھے،نور ہی نور کردے اور میرے واسطے نور ہی نور کردے۔میری زبان، میں میرے پٹھوں میں، میرے گوشت میں، میرے خون میں، میرے بال بال میں اور میرے سارے ہی بدن میں اور میری جان میں نور ہی نور کردے اور میرے واسطے نور کو بہت بڑا کردے اور اے اللہ مجھے نور ہی نور عطا کردے ظلمت کا نام و نشان نزدیک تک نہ آوے۔(منقول از کتاب حزب القبول) دنیوی جاہ و جلال اور مال خطرناک مرض ہے اب غور کا مقام ہے کہ انبیاء ظلمت کے کیسے دشمن ہوتے ہیں۔دنیوی جاہ و جلال اور مال و منال کی محبت جو کہ ایک خطرناک مرض ہے۔یہ بھی ایک ظلمت کی وجہ سے ہوتی ہے۔خدا سے دور پھینک دیتی ہے۔جتنا زیادہ مال و دولت ہوگا اتنا ہی حرص بڑھتی جاوے گی۔اچھے ا چھے مرغن کھانے اور پُرتکلّف سامان خور و نوش معدوں کو خراب کرکے انسان کو محتاج کرکے حکیموں اور ڈاکٹروں کے محتاج کردیتے ہیں اور اس طرح سے ان کا مال و دولت ان کے کام نہیں آتا بلکہ وہ اوروں کے لئے ہوجاتا ہے۔مزدوری نہ دینے والے ایک امیر شخص کا واقعہ مجھے ایک شخص کا حال معلوم ہے کہ وہ بہت ہی بڑا آدمی تھا، کروڑوں کا مالک تھا۔ایک شخص اونٹوں والا میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ ہماری سپارش کردیں کہ ہمیں ہماری مزدوری مل جاوے۔پانچ سو اونٹ کی مزدوری باقی ہے۔میں نے کہا کہ سپارش کی کیا ضرورت آخر بات کیا ہے تو اس نے کہا کہ وہ شخص کہتا ہے کہ پانسو اونٹ چونہ کا بوجھ میرے مکان پر لے جاؤ جب مزدوری دوں گا۔ورنہ نہیں۔میں نے اس سے کہا کہ تمہارا ہرج ہی کیا ہے لے جاؤ۔آخر تم نے وہیں جانا ہے خالی بھی تو جاؤ گے۔اس کا کام ہی کردو۔اس شخص نے کہا کہ آپ بجائے اس کے کہ ہماری سپارش کرتے آپ نے الٹا ہمیں اس طرح سے کہا۔اس سے آپ کا کیا مطلب ہے۔میں نے کہا کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ آیا وہ شخص