ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 370 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 370

اوقات ہوا میں آگ سی لگ جاتی ہے اور اس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔کبھی سفید، کبھی سرخ اور سبز اور زرد وغیرہ اور جس کو قرآن شریف نے شہاب ثاقب کے نام سے تعبیر کیا ہے وہ روشنی ظاہر ہو کر کچھ حصہ ظلمت کو تباہ و برباد کرتی ہے اور ساتھ ہی ان مضرمادوں کو ضائع کرتی ہے جن کو اس ظلمت سے تعلق ہوتا ہے۔اندھیرے کو دور کرکے روشنی اور تمیز پیدا کرتی ہے کیونکہ ہر اندھیرا تمیز کو اٹھا دیتا ہے۔انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام چونکہ ظاہر سے باطن کی طرف لے جاتے ہیں۔لہٰذا اس مثال میں بھی ایک حقیقت پوشیدہ ہے اور ایک سبق سکھانا مد نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ جس طرح رات کی گھٹا ٹوپ ظلمت میں شہاب ثاقب روشن ہوکر کسی حصہ ظلمت کو تباہ کرتا اور ان جرائم کو جن کا اس ظلمت سے تعلق تھا ہلاک کرتا ہے تو تم بھی اپنے واسطے دعائیں کرو اور ہر ظلمت سے نکلنے کی کوشش کرو۔ظلمت خواہ کسی ہی قسم کی کیوں نہ ہو ہمیشہ مضر ہے اور بدی کی یہی جڑھ ہے۔دیکھو بادل کا گرجنا، بجلی کا چمکنا، تیز ہواؤں کا چلنا، تیز گرمی کا ہونا، بادوباراں کے طوفان یہ سب اصل میں ظلمت اور موذی کیڑوں کے دفعیہ کے بواعث ہیں جن سے وبائیں پھیلتی ہیں۔انبیاء ظلمت کے بڑے سخت دشمن ہوتے ہیں اور ان کو ہر قسم کی ظلمت سے نفرت تام ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حصول نور کی دعا دیکھو میں تم کو اپنے سردار محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا کی طرف توجہ دلاتا ہوں آپ ہر روز صبح کی دو سنّتوں کے بعد یہ دعا مانگاکرتے تھے۔اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّ عَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا وَّفَوْقِیْ نُوْرًا وَّ تَحْتِیْ نُوْرًا وَّ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّخَلْفِیْ نُوْرًا وَّ اجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّ فِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا وَّ عَصْبِیْ نُوْرًا وَّ لَحْمِیْ نُوْرًا وَّ دَمِیْ نُوْرًا وَّ شَعْرِیْ نُوْرًا وَّ بَشْرِیْ نُوْرًا وَّ اجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَّ اعْظَمْ لِیْ نُوْرًا اللّٰھُمَّ اعْطِنِیْ نُوْرًا۔(صحیح مسلم باب الدعا فی صلوٰۃ اللیل جزء۲ حدیث نمبر۱۸۲۴ صفحہ۱۲۸)