ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 363 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 363

ہے۔بیٹھ کر جس پہلو سے تقریر کررہا تھا۔اب اس پہلو کو بدلنا پڑا اور اس بات کو عام فائدہ کے رنگ میں لانا پڑا ہے۔یاد رکھو کہ وعظ کرنا تین شخصوں کا کام ہے۔اوّل تو مامورین کا جن کو براہِ راست کسی امر کے پہنچانے کا ارشاد الٰہی ہوتا ہے۔دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو مامورین کی طرف سے کسی وعظ و نصیحت کرنے کا ارشاد ہوتا ہے۔تیسرے متکبّر۔یاد رکھو مجھے وعظ کا شوق نہیں ہے اور نہ میں کسی دنیوی بڑائی اور بزرگی کا طالب ہوں بلکہ وعظ کرنے میں تو مجھے بعض اوقات سخت سے سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے۔میں جب وعظ کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو مجھے اپنے نفس کی فکر دامنگیرہوجاتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے و اسطے مامور ہوکر آتے ہیں۔ان کے دل میں یہ بات میخ فولاد کی طرح مضبوطی اور استحکام سے گڑی ہوتی ہے کہ کسی طرح سے انسان کا ظاہروباطن یکساں ہوجاوے اور ان کی ساری توجہ اور کوشش اسی بات میں ہوتی ہے کہ کسی طرح یہ بندے خدا کے بن جاویں۔وہ لوگ اگر ان کو کوئی موقع ہاتھ آجاوے تو ظاہری اور دنیوی امور سے بات کو پھیر پھار کر روحانیت اور باطن کی طرف لے جاتے ہیں اور توحید اور رسالت حقوق اللہ اور حقوق المخلوق کا وعظ کرنے لگ جاتے ہیں۔ان کی ہر ایک ظاہر بات کا ایک باطن ہوتا ہے اور ظاہر کی تہ میں ایک وعظ مدِّنظر ہوتا ہے جو توحید اور رسالت کے اثبات میں ہوتا ہے۔دنیا میں مختلف قسم کے طبائع ہوتے ہیں۔بعض پیسے اور دنیا کے بندے اور بعض جسمانی صفائی اور ضروریات کے خواہاں اور ایک گروہ ایسا بھی ہوتا ہے جن کو روح کی فکر ہوتی ہے۔دیکھو حضرت یوسفؑ قید خانے میں ہیں ادھر تین آدمیوں نے خواب دیکھا۔دو تو ان کے صاحب قید ہیں اور ایک بادشاہ وقت۔خواب بین قیدیوں نے ان کے سامنے اپنے خواب بیان کئے اور تعبیر پوچھی۔حضرت یوسفؑ نے بجائے اس کے کہ ان کو تعبیر بتاویں۔وعظ شروع کردیا اور