ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 361 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 361

قرآن کریم سیکھنے کے پانچ ادوار فرمایا کہ ہمارے نزدیک ہم نے ایک راہ کا تجربہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان دل میں سچی تڑپ اور پیاس علوم قرآ نی کے حصول کے واسطے پیدا کرکے تقویٰ تام سے دعائیں کرے اور اس طرح سے قرآن شریف شروع کرے۔دورِ اوّل۔خود تنہا ایک مترجم قرآن شریف لے کر جس کا ترجمہ لفظی ہو انسان کی اس میں اپنی ملاوٹ کچھ نہ ہو اور اس کے واسطے میں شاہ رفیع الدین صاحب علیہ الرحمۃکا ترجمہ پسند کرتا ہوں۔لے کر ہر روز بقدر طاقت بلا ناغہ کچھ حِصّہ قرآن کا پڑھا کرے اور لفظوں کے معنوں میں غور کرے۔پھر جہاں آدم اور شیطان کا حال مذکور ہو اپنے نفس میں غور کرے کہ آیا میں آدم ہوں یا کہ ابلیس۔موسیٰ ہوں کہ فرعون۔مجھ میں یہودیوں کے خصائل ہیں یا کہ مسلمانوں کے اور اسی طرح سے عذاب کی آیات سے ڈرے اور پناہ مانگے اور رحمت کی آیات سے خوش ہو اور اپنے کو رحمت کا مورد بننے کے واسطے دعائیں کرے۔ہر روز درود، دعا، استغفار اور لاحول پڑھ کر شروع کرے اور اسی طرح ختم کرے۔اسی طرح سے دور اوّل ختم کردیوے اور اس دور میں ایک نوٹ بک پاس رکھے مشکل مقامات اس میں نوٹ کرتا جاوے۔دورِ دوئم۔پھر دورِ دوئم شروع کرے اور اس میں اپنی بیوی کو سامنے بٹھا کر سناوے اور یہ جانے کہ قرآن شریف ہم دونوں کے واسطے نازل ہوا ہے۔بیوی خواہ توجہ کرے یا نہ کرے یہ سنائے جاوے اور پہلے دور کی نسبت کسی قدر بسط کرتا جاوے اور پہلے طریق کی طرح اس دور کو بھی ختم کرے اور وہ پہلی نوٹ بک ساتھ رکھے اور اسے دیکھتا رہے۔پھر اس دور میں یہ دیکھے گا کہ بہت سے وہ مشکل مقامات جو دورِ اوّل میں نہیں سمجھا تھا اس دور میں حل ہوجاویں گے۔اس دور ثانی کی بھی ایک الگ نوٹ بک تیار کرے۔دورِ ثالث۔پھر اس طرح سے دورِ ثالث شروع کرے اور گھر کے بچوں عورتوں اور پڑوسیوں کو بھی اس دور میں شامل کرلے مگر وہ لوگ ایسے ہوں کہ کوئی اعتراض نہ کریں اور پہلی اور دوسری دونوں نوٹ بکیں اپنے سامنے رکھے۔اس طرح اس دور میں دیکھے گا بہت سے مشکلات جو