ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 35 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 35

نکلوائیں جس میں نورالدین نے خوشامد کر کے منشی جی کو روکا ہے۔میرے بھائی میں دلیری سے عرض کرتا ہوں کہ میر ی تحریریں بچہ پن سے لے کر آج تک کبھی بھی ایسی نہیں جن کی اشاعت سے مجھے کسی نوع کا خطرہ ہو۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَھٰذِہٖ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ عَلَیَّ وَلٰکِنْ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۔۶؍اگست ۱۸۹۹ء (الحکم جلد ۳ نمبر ۲۸مورخہ ۱۰؍اگست ۱۸۹۹ء صفحہ ۱۰) مکتوب بنام حافظ محمد یوسف صاحب خاکسار نور الدین اَللّٰھُمَّ کَاسْمِہٖ آمین بخدمت حافظ محمد یوسف صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔گزارش پرداز۔جناب کو معلوم ہے کہ جناب واحد احد کی یکتا ذات پاک وحدت کو کیسے پسند فرماتے ہیں۔ہمارے سردار و مولیٰ افضل الرسل خاتم النبییّن پر احسانات کا اظہار فرماتے فرماتے ارشاد کرتا ہے۔(الانفال :۶۴) اور اس کے بالمقابل اختلاف پر اپنا سُخطیوں ظاہر فرمایا(الانفال : ۴۷) جناب حافظ صاحب! صرف مطاعن سے کام لینا کوئی پسندیدہ امر اور مقصود تک پہنچانے والی بات نہیں۔پہلے خلیفہ فی الارض حضرت ابوالبشر آدم صفی اللہ صلوات و سلامہ پر خود ملائکہ نے مطاعن سے کام لیا مگر کیا فائدہ اُٹھایا یہ قصہ سورہ بقرہ میں جو فاتحہ کی اعظم ترین تفسیر ہے بڑی عبرت کے لئے درج ہوا ہے غور کرو۔مامور من اللہ پر دو قسم کے معترض اعتراض کرتے ہیںایک طر ف ملائکہ اور دوسری طرف ابلیس۔پس ہم کسی اچھے یا برے معترض کے باعث ایک ما مور امام کو کیوں چھوڑ سکتے ہیں۔حضرت موسیٰ صاحب الشریعہ پر بھی ایک فلسفی بادشاہ اعتراض کرتا ہے جیسے بیان ہوا۔