ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 353
اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ عَنِ الْحُسَیْنِ عَنْ فُضَالَۃَ عَنِ الْعَلَائً عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ اَبِیْ جَعْفَرٍ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالَ کَانَ اَبِیْ یُنَادِیْ فِیْ بَیْتِہٖ بِالصَّلٰوۃِ خَیْرٌ مَّنَ النَّوْمِ۔(تہذیب الاحکام) اور ابو بکر الخضرمی و کلیب الاسدی عن ابی عبداللہ علیہ السلام حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَلِ کی روایت کے بعد لکھا ہے۔اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مَّنَ النَّوْمِکو تقیہ پر محمول کیا ہے (مَنْ لَّا یَحْضُرُہُ الْفَقِیْہ) کلینی میں کوئی تفصیل نہیں۔بہرحال اگر امام حسین یاعلی بن حسین علیہما السلام اور عبداللہ بن عمر سے حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَلِ ثابت ہے تو آپ اس روایت کا ہمیں پتہ دیں۔اگر اسناد نہ ملے یا اسناد صحیح نہ ہو تو کیوں کر عمل کیا جاوے؟ ہم نے کتب اربعہ شیعہ کلینی، استبصار، تہذیب، مَنْ لَّا یَحْضُرُہُ الْفَقِیْہ میں دیکھا ہے۔ہمیں کوئی روایت مرفوع متصل صحیح حضرت نبی کریم ﷺ سے نہیں ملی اور جب تک ایسی روایت نہ ملے حَیَّ عَلٰی خَیْرِ الْعَمَلِ کے جواز کا فتویٰ کیوں کردیں؟ کتب اربعہ میں ایسی روایات موجود ہیں۔اِنَّ عَلِیًّا وَلِیُّ اللّٰہِ اِنَّ عَلِیًّا اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ حَقًّا اور اَنَّ مُحَمَّدًا وَاٰ ٰلَہٖ صَلَوَاتُ اللّٰہِ خَیْرِ الْبَرِیَّۃِ بھی مفوضہ اذان میں بڑھا دیاہے اوروہ لوگ ملعون ہیں لِاَنَّھُمْ زَادُوْا وَ نَقَصُوْا فِی الْاٰذَانِ۔پس ہم ایسے خطرات میں کیوںپڑیں۔عبد اللہ بن عمر اور علی بن الحسین رضوان اللہ علیہما بے ریب ثقہ ہیں مگر ان سے کس نے روایت کیا اور انہوں نے حضرت نبی کریم سے کس طرح روایت کیاکیونکہ یہ خود تو شارع نہیںہیں۔ایک تعجب انگیزامر شیعہ میں ہے کہ پوری روایات پر اوّل تو توجہ نہیںکرتے اور ان کے