ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 346
صرف اسی واسطے کہ اللہ کریم کا حکم ہے۔اس پر صاحب موصوف بولے کہ آپ کا اپناعمل کس طرح سے ہے؟ حضرت حکیم الامت نے فرمایا کہ اپنے فتویٰ کے برخلاف عمل میں کس طرح کر سکتا ہوں۔تراویح کے متعلق میرا فتویٰ تو یہی ہے جو میں نے بتا دیا۔اگر کوئی عمدہ قرآن پڑھنے والا ہو تو اس کے پیچھے بیس رکعت بھی پڑھ لیتا ہوں اور کبھی آٹھ رکعت بھی پڑھ لیتا ہوں اور کبھی صرف تہجد ہی پڑھتا ہوں۔یہاں تو کل سنّت صحابہ کی پوری کی جاتی ہے اور شاید آپ کو تو معلوم نہیں۔میں کوئی تین برس سے بیمار رہتا ہوں اس لئے آج کل بڑی مسجد میں جا نہیں سکتا۔اس پر نو وارد صاحب بولے کہ اب مجھے اچھی طرح سے یہ بات سمجھ میں آگئی ہے۔(ظہیر) (الحکم جلد۱۱ نمبر ۳۸ مورخہ ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۰۷ء صفحہ۱۰) رسالہ ردّ چکڑالوی کے متعلق رائے یہ رسالہ حضرت حکیم الامت نے دیکھا اور اس پر آپ نے یہ رائے دی ہے۔’’میں نے اس رسالہ کو دیکھا ہے اور جہاں تک مجھے بحمد اللہ فہم ہے۔عزیز محمد ظہیر الدین نے اس کے لکھنے میں بہت کوشش کی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اخلاص سے زور لگایا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کی محنت کو مثمر بثمرات نیک کرے۔‘‘ نور الدین ۷؍ جون ۱۹۰۷ء ( الحکم جلد۱۱نمبر ۴۶ مورخہ ۲۴؍ دسمبر۱۹۰۷ء صفحہ۱۰ ) تکمیل دین اور فضل خداوندی آریہ سماج وچھووالی کے سالانہ جلسہ پرحضرت حکیم الامت جب لاہور میں تشریف لے گئے تھے تو وہاں ایک شخص نے ان پر ایک سوال کیا تھا جس کو فائدہ عام کے لئے بمعہ جواب ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔سوال۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔(المآئدۃ : ۴) تو اس کے بعد تم لوگ درود شریف پڑھ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کیا مانگتے ہو