ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 339
میں ہے کہ دجال کی بائیں آنکھ عیب دار ہوگی۔آٹھویں۔دجال کی آنکھ انگور کی طرح ہوگی جو ابھرا ہوا ہو دجال کی آنکھ بالکل مٹی ہوئی ہو گی ابھری نہ ہو گی۔نویں۔ایک حدیث میں ہے کہ وہ بین الشام اور عراق نکلے گا۔دوسری حدیث میں ہے کہ وہ مشرق سے نکلے گا۔تمیم داری نے مغرب میں دیکھا۔دسویں۔اس کے زمانہ میں قحط شدید تین سال رہے گا کہ آخر کچھ بھی نہ رہے گا۔لیکن دوسری حدیث میں ہے کہ اتباع دجال عیش و آرام میں ہوں گے ان کے مویشی آسودہ حال ہوں گے۔جب پیداوار ہی نہیں ہوئی تو مویشی کا آرام کیسا؟ گیارہویں۔ایک حدیث میں ہے کہ مارے گا اور زندہ کرے گامگر ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں(البقرۃ:۲۵۹)۔بارھویں۔ایک حدیث میں آیا ہے کہ دجال اس کے ماننے والے کے لیے باپ اور ماں اور بھائی بنادے گااور شیاطین کو متمثل کر دے گا۔مگر قرآن میں فرمایا ہے۔ (الزمر:۶۳) اور قرآن کریم میں ہے کہ ابلیس اور شیاطین کو تم نہیں دیکھ سکتے۔غرض بڑے بڑے مشکلات ان احادیث میں تھے اور یہ بارہ امور میں نے صرف مشکوٰۃ سے دکھائے ہیں۔آپ مشکوٰۃ سے دیکھ سکتے ہیں۔پھر کہیں تو احادیث سے پتہ لگتا ہے کہ دجال بہت ہیں کہیں پتہ لگتا ہے کہ ایک ہی دجال ہے اور اس کے اتباع بہت ہوں گے۔غرض ان مشکلات پر نظر کرنے سے حیرت ہوتی تھی اس لیے امام صاحب نے فیصلہ کر دیا کہ اصل دجال شیطان ہے اور وہ ایک ہے اور اس کا ایک مظہر ابن صیاد تھاجو مدینہ میں تھا اور وہ شیطان آخر مسلمان ہو گیا۔پھر ایک گرجا والا دجال ہے جو ایک بڑی قوم مظہر شیطان ہے۔اور دجال کے پیادہ و سوار ہیں۔تمام دنیا میں پھیل گئے۔شراب اور زنا کو جرم ہی نہیں رکھا ایک آدمی