ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 32 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 32

مکتوب بنام منشی تاج الدین صاحب برادرم منشی تاج الدین صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔پرسوں شام کے وقت ایک میرے مکرم معظم دوست نے برسر مجلس ذکر فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا۔منشی تاج الدین صاحب نے ارقام فرمایا ہے ڈپٹی فتح علی شاہ صاحب سے میں نے دریافت کیا ہے کہ کیوں اب تک منشی الٰہی بخش صاحب نے اپنے الہامات درباب حضرت مرزا صاحب شائع نہیں فرمائے۔ڈپٹی صاحب نے فرمایا کہ نور الدین نے کہا یعنی اس راقم خاکسار نے منشی جی کو بمنت وسماجت خط لکھا ہے کہ منشی صاحب ایسے الہامات کے شائع کرنے سے باز رہیں اس لئے منشی صاحب نے اشاعت الہامات مخالفہ مرزا صاحب سے اعراض کیا۔برادرم ! اس کلام کے سننے سے مجھے تعجب اور حیرت ہوئی اور میں عام اہل اسلام کی حالت پر دیر تک افسوس کرتا رہا۔تعجب اس لئے کہ ایک ملہم من اللہ جس کو الہام الٰہی سے ثابت ہو گیا کہ فلاں شخص اللہ ورسول کا مخالف ہے تو اس مخالف اللہ و رسول کا پردہ فاش کرنے کے لئے ہمہ تن متوجہ ہونا چاہئے تھا کسی کے روکنے سے وہ کیونکر رُک سکتا تھا۔۲۔جب منشی الٰہی بخش صاحب کو ثابت ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کے الہامات نعوذ باللہ شیطانی ہیں اور غلط ہوتے ہیں اور ان کو پختہ طور پر معلوم ہے کہ نور الدین مرزا جی کا دل سے جان سے مال سے اور عزت و آبرو سے فدائی ہے اور پورا معتقد ہے تو مرزا کے ایسے معتقد کے خط بخلاف الہامات الٰہیہ کیوں متبع ہوئے۔۳۔نص صریح ہے کہ مامور من اللہ مداہن لوگوں کے کہنے پر نہیں چلا کرتے تو اگر نور الدین نے مداہنت چاہی تھی تو منشی الٰہی بخش صاحب پر واجب تھا کہ نور الدین کا وہ خط جس میں اس نے منشی جی کو روکا ہے الہامات کے ساتھ شائع کر دیتے تو کہ حسب منشاء منشی صاحب مرزا جی کے ساتھ مرزا کے ایک مرید کی بھی پردہ دری ہو جاتی اور اس سے عام لوگ نتیجہ نکالتے کہ یہ جماعت کیسی مکار ہے!