ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 328
خالق مان کر تعدد خالقین کے ملزم ہیں۔آپ وہابی ہیں یا مقلد یا غیر مقلد اہل حدیث یا صوفی وہابیہ یا اہل حدیث۔کے نزدیک تمام ان کے مخالف مشرک ہیں۔میرے ایک نجدی آشنا عبد الرحمٰن نام تھے اہل مکہ کے بارے میں انہوں نے کہا اَھْلُ مَکَّۃ کُلُّھُمْ مُشْرِکُوْنَ۔میں نے کہا قُلْ اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہُ۔تو بولا وَاللّٰہِ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ۔اِکْتَعُوْنَ اِبْصَعُوْنَ مُشْرِکُوْنَ۔پھر میں نے کہا قُلْ اِلَّا مَاشَائَ اللّٰہُ تو بولا یَقْتُلُوْنَ یَنْھَبُوْنَ۔اب فرمائیے وہ توحید کیا چیز ہے جس کو مدار نجات کہا گیا۔سید صاحبان و خان صاحبان! عبد الکریم الجیلی نے کہا ہے سوا مثنویہ کے سب نجات یافتہ اور قائل توحید ہیں۔پھر عرض ہے۔قرآن کریم میں لفظ توحید کا کہاں ہے اور کہاں اس کو مدار نجات کہا گیا۔اب آپ کی آیات پر توجہ کرتا ہوں سو آپ نے بسم اللہ غلط کی ہے کیونکہ پہلی آیت میں ایمان باللہ کے ساتھ ایمان بالیوم الآخر اور عمل صالح دو چیزیں ایمان باللہ کے ساتھ لگی ہوئی ہیں تو آپ نے اقرار توحید کے ساتھ نجات کو وابستہ کیا ہے اور اس آیۃ کریمہ میں ایمان باللہ اور ایمان بالیوم الآخر اور عمل صالح تین اور بڑھے تو اقرار توحید اور یہ تین کل چار مدار نجات ہوئے پھر ایمان بالیوم الآخر کے ساتھ ایمان بالقرآن اور محافظت علی الصلوٰۃ لازم پڑا ہے جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں (الانعام : ۹۳) پھر آپ غور کریں جو مومن بالآخر ہوگا وہ مومن ہوگا وہ مومن بالقرآن اور نماز وں پر محافظت کرنے والا بھی ہوگا کیونکہ لازم اپنے ملزوم سے جدا نہیں ہوسکتا تو پھر صرف توحید کیا چیز ہوئی۔اب آپ عمل صالح کی طرف توجہ فرماویں آیا کل عمل نیک مراد ہیں یا بعض اگر بعض مراد ہیں تو وہ بعض کون سے؟ تعیین ضرور ہے اگر کل مراد ہیں تو انبیاء اور رسل اور انبیاء کے خلفاء کا ماننا کیوں داخل اعمال صالحہ نہیں۔آیت استخلاف جو سورۃ نور میں ہے اس میں لکھا ہے۔خلفاء کے ذکر