ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 327
کے مسلمان کیوں قرآن سے غافل اور پھر نجات سے ایسے بے خبر کیوں ہو گئے۔ (الروم : ۴۲) مولیٰ!مسلمان ظاہری سلطنتیں برباد کرکے متأسف نہ تھے روحانی خوبی کے برباد کرنے میں بے پرواہی سے کام لیتے ہیں۔اس لیے کہ اقرار توحید میں تو منافق بھی شریک تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے(البقرۃ : ۹۰) ان کے متعلق ارشاد ہے (النور : ۲۴) اور ارشاد ہے(الاحزاب : ۹۲)۔توحید کیا چیز ہے اس میں اوّل تو بڑا اختلاف ہے کہ توحید کس کو کہتے ہیں۔منطقی اور فلسفی توحید کہتے ہیں ایک علت العلل کو ماننا جو ذات بحت لا بشرط شئے ہے۔وحدت وجود والے اعتقاد کرتے ہیں خالق کو عین مخلوق اور مخلوق کو عین خالق سمجھنا توحید ہے۔کلمۃ الحق ایک لکھنوی وجودی کی کتاب ہے اس میں کہتا ہے تمام مفسر، محدث، متکلم، فقیہ د وئی کو مان کر شرک میں گرفتار ہیں۔عیسائی زور سے کہتے ہیں جب تک توحید تثلیث کے ساتھ نہ ہو توحید نہیں۔کیونکہ توحید ہے واحد بنانا اور اعتقاد کرنا سو ہم لوگ تین کو ایک مانتے ہیں اس لیے موحد ہیں ایک کو ایک ماننا توحید ہی نہیں۔کل شیعہ ومعتزلہ اور جو صفات باری تعالیٰ کو عین ذات مانتے ہیں وہ سب کے سب صفات باری کو عین باری تعالیٰ نہ ماننے والوں کو مشرک اور مخالف توحید یقین کرتے ہیں۔علامہ علی رافضی منہاج الکرامہ میں سنیوں پر شرک کا الزام لگاتا ہے۔کیونکہ یہ لوگ تعدد قدما کے قائل ہیں۔آریہ توحید کے مدعی ہیں ان کے یہاں ایک قادر متصرف علی المادہ کا ماننا توحید ہے۔برہمو کتب الٰہیہ اور رسل کی اطاعت کو شرک بتاتے ہیں۔مدعی اشاعت قرآن نبی کریمﷺکی اطاعت کو شرک یقین کرتا ہے (کیونکہ یہ لوگ کلام اللہ کے ساتھ کلام الرسول کو واجب الاطاعت مان کر شرک میں گرفتار ہیں)سنی معتزلہ کو مشرک یقین کرتے ہیں کہ وہ بندوں کو اپنے اعمال کا