ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 319
حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک لڑکی حضرت عثمان ؓ سے بیاہی گئی تھی اور اس کی وفات کے بعد پھر دوسری لڑکی بھی حضرت عثمانؓ سے بیاہی گئی تھی۔پس اس امر سے یہ مسئلہ بآسانی حل ہو سکتا ہے۔جاہلوں کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ امتی سیدانی کے ساتھ نکاح نہ کرے حالانکہ امتی میں تو ہر ایک مومن شامل ہے۔خواہ وہ سید ہو یا غیر سید۔( البدر جلد۱ نمبر۷۔مورخہ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۴) مفقود الخبر کے متعلق فتویٰ ۱۱ ؍فروری ۱۹۰۷ء۔ایک خط سے حضرت حکیم الامت کے آگے سوال پیش ہوا کہ مفقود الخبر زوج یعنی جس عورت کا شوہر بہت مدت سے گم ہو گیا ہو وہ عورت کتنی مدت کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کر سکتی ہے؟ فرمایا۔چار سال تک اگر مفقود الخبررہے تو اس کو فوت شدہ تصور کیا جاوے اور چار سال کے بعد وہ عورت جس کا خاوند چار سال سے گم ہو چار مہینے دس دن عدت میں رہے بعد ازاں دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے پھر پہلا اگر آجاوے تو پہلے کا کوئی حق نہیں۔نمازیں جمع ہونے پر ادائیگی سنت آج مغرب و عشاء کی نماز بسبب بارش جمع کی گئی۔ادائے فرض مغرب و عشاء کے بعد راقم حروف نے حضرت حکیم الامت سے دریافت کیا کہ اب سنتیں پڑھی جاویں یا نہیں۔فرمایا۔سنتیں اور وتر بھی پڑھنے چاہئیں۔پھٹی جرابوں پر مسح ۱۲؍فروری۱۹۰۷ء۔راقم حروف نے مولوی صاحب سے سوتی جرابوں کے متعلق عرض کی کہ نیچے سے تین انگل پھٹی ہوئی ہیں ان پر مسح ہو سکتا ہے یا نہیں؟ مولوی صاحب نے فرمایا۔قرآن و حدیث میں اس امر کے متعلق اتنی موشگافی نہیں پائی جاتی۔مسح جائز ہے۔(الحکم جلد۱۱ نمبر۷۔مورخہ۲۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ۱۲)