ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 318
ج۳۔نماز کے لئے متقی کو امام بناؤ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (السجدۃ:۲۵) س۴۔جمعہ کے دن امام خطبہ پڑھا رہا ہو اگر کوئی شخص اس وقت آوے وہ اس وقت دو سنتیں پڑھے یا نہ۔ج ۴۔مختصر دو سنتیں پڑھ لے۔س۵۔نماز مغرب اور عشاء جمع ہو تو عشاء کی دو سنتیں پڑھے یا نہ۔ج۵۔پڑھ لے۔س۶۔اگر پہلی جماعت مسجد میں ہوجاوے تو پھر کچھ عر صہ کے بعد اور آدمی پانچ، سات یا کم ازکم دو جمع ہوجاویںتو کیا وہ آدمی دوبارہ جماعت اس مسجد میں کرسکتے ہیں یا نہیں؟ ج۶۔دو تین آدمیوں کے ساتھ دوسری جماعت منع نہیں۔( الحکم جلد۱۱ نمبر۴۔مورخہ۳۱ ؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ۹) سید زادی سے نکاح ایک شخص نے حضرت صاحب (مسیح موعود علیہ السلام)کی خدمت میں سوال پیش کیا کہ غیر سید کو سیدانی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے نکاح کے واسطے جو محرمات بیان کیے ہیں ان میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ مومن کے واسطے سید زادی حرام ہے۔علاوہ ازیںنکاح کے واسطے طیبات کو تلاش کرنا چاہیے اور اس لحاظ سے سید زادی کا ہونا بشرطیکہ تقویٰ و طہارت کے لوازمات اس میں ہوں افضل ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ سید کا لفظ اولاد حسین کے واسطے ہمارے ملک میں ہی خاص ہے۔ورنہ عرب میں سب بزرگوں کو سید کہتے ہیں۔حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان ؓ سب سید ہی تھے اور حضرت علیؓ کی ایک لڑکی حضرت عمرؓ کے گھر میں تھی۔اور