ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 317 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 317

عرض کرنے کا وہی طریق ہے جو کتاب اللہ میں ہے اسی پر کاربند رہو۔بدر۔( الحکم جلد۱۱ نمبر۴۔مورخہ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ۶،۷) استفسار اوران کے جواب بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم بخدمت حضرت حکیم الامت مولانا! السلام علیکم ورحمہ اللہ و برکاتہ ذیل کے چند سوالات کا جواب درکار ہے۔سوالات یہ ہیں۔س۱۔کیا یہ خیال درست ہے کہ بعض گائے یا بھینسیں وغیرہ پر نظر کا اثر پڑتا ہے جسے لوگ نظرائی ہوئی کہتے ہیں پھر کچھ پانی وغیرہ پڑھ کر اس کے چہرے پر مارتے ہیں وہ بھینس دودھ دینے لگ جاتی ہے۔ج۱۔بعض نظر کا یقینا اثر پڑتا ہے اور اس کی تدبیر بھی مفید ہوتی ہے۔احادیث صحیحہ سے یہ بات ثابت ہے۔س۲۔بعض ایسے رشتہ دار (بہن یا ماموں وغیرہ جو بہت قریبی تعلق سے ہیں )وہ شرک وغیرہ کرتے ہیں۔ان کے ہاں شادی وغیرہ کے موقع پر ہر قسم کی رسومات عمل میں لائی جاتی ہیں۔شادی وغیرہ کے وقت کیا ان سے میل ملاقات رکھے یا نہ۔اور ان کے ہاں شادی وقت ان کے ساتھ شامل ہو یا نہ۔ج۲۔برائی میں شریک نہ ہو اور مناسب سلوک ان سے کیا جاوے۔قرآن شریف کی سورہ لقمان کے دوسرے رکوع میں اللہ فرماتا ہے اگر شرک کی کہیں تو نہ مانو اور دنیوی مناسب سلوک کرو۔س۳۔اگر کوئی شخص امانت میں خیانت کرے اور وہ خیانت معلوم ہو جاوے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی چاہئے یا نہ۔