ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 316
فیضان پہنچنے میں بھی کوئی ایسی ہی آسمانی روک نہ پیش آجائے۔اس لئے آپ نے اس وقت تک صدقہ دعا استغفار نماز کو نہ چھوڑا جب تک سورج کی روشنی باقاعدہ طور سے زمین پر پہنچنی شروع نہ ہوگئی۔اب چونکہ ہر ایک مومن شخص بھی بقدر اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نور رکھتا ہے جیسے باپ بیٹے کا اثر چنانچہ اس لئے فرمایا (الاحزاب :۴۱) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسمانی بیٹا نہیں تو روحانی بیٹے بے شمار ہیں اس لئے ہر مومن بھی ایسے نظارہ پر گھبراتا ہے اور گھبرانا چاہئے کہ کہیں ایسے اسباب پیش نہ آجائیں جس سے ہمارا نور دوسروں تک پہنچنے میں روک ہوجائے۔اس لئے وہ ان ذرائع سے کام لیتا ہے جو مصیبت کے انکشاف کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں یعنی صدقہ خیرات کرتا ہے استغفار پڑھتا ہے اور نماز میں کھڑا ہوجاتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کسی مشکل کے وقت نماز میں کھڑا ہوجاتے … آخر اللہ تعالیٰ کا دریائے رحمت جوش میں آتا ہے اور جیسے وہاں حرکت و دور سے وہ اسباب ہٹ جاتے ہیں جن سے سورج کی روشنی باقاعدہ زمین پر پہنچنی شروع ہو جاتی ہے اسی طرح دعا و استغفار سے مومن کے فیضان پہنچنے میں جو روکیں پیش آجاتی ہیں دور ہو جاتی ہیں شیشے پر سیاہی لگا کر یا برہنہ آنکھ سے اپنی آنکھوں کو نقصان پہنچانے کے لئے تماشے کے طور پر اس نظارہ کو دیکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔تم سراج منیر کے بیٹے ہو پس اپنے انوار کو دوسروں تک پہنچانے میںتمام مناسب ذرائع استعمال کرو چونکہ آپ نے ان آیات پر وعظ شروع کیا تھا جن میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو سراج منیر کہا گیا ہے اس لئے ضمن میں بعض اور باتیں بھی بعض الفاظ کی تشریح میں آگئی تھیں ایک بات خصوصیت سے قابل ذکر ہے جو سَبِّحُوْا کی تفسیر میں فرمائی کہ مشرک لوگوں نے ظاہری سلسلہ پر نظر کر کے کہ بادشاہ کے پاس سوائے وسیلہ کے نہیں جاسکتے۔اللہ تعالیٰ تک اپنی عرض لے جانے کے لئے پیر پرستی شروع کردی اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ گو مرچکے ہیں مگر ہماری غرضیں انہیں کی راہ سے اوپر پہنچتی ہیں۔یہ خطرناک غلطی ہے خدائے پاک کے حضور