ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 313
لطیف نکتہ ۱۷؍جنوری کو آپ نے سورۃ الفجر پر وعظ فرمایا اور منجملہ نکات یہ لطیف نکتہ بھی بیان کیا کہ الفجر رسول کریمﷺ کا زمانہ ہے۔خیر القرون تک تین سو برس ہوئے اور دس راتوں سے مراد دس صدیاں لیں تو کل ۱۳۰۰ ہوئے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ (الفجر:۴) میں تیرھویں اور چودھویں صدی کی طرف اشارہ فرماتا ہوا (الفجر:۵) کی خبر دیتا ہے یعنی پھر چودھویں میں آفتاب نبوت طلوع کرے گا اگر اس نبی کی اطاعت نہ کریں گے تو وہی ہوگا جو عادیوں اور فرعونیوں کے ساتھ ہوا۔یہاں ایک شخص علاقہ ہزارہ سے آیا۔بیعت کی۔بعد از اں بیمار ہوگیا اور اسی بیعت مبرور کی حالت میں راہی ملک بقا ہوا۔اِنّا لِلّٰہ وَ اِنَّـآ اِلَیْہ رَاجِعُوْن۔مقبرہ بہشتی کی نسبت پہلے مخالفوں اور بدظنی سے کام لینے والوں نے یہی سمجھا تھا کہ یہاں وہی دفن ہوں گے جن کے پاس دولت ہوگی یا جو قادیان اور اس کے قریب ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فعل سے ثابت کردیا کہ ایسے لوگوں کا خیال بالکل غلط اور یہ تجویز وحی الٰہی سے تھی۔اب تک جتنے اس میں داخل ہوئے ہیں تقریباً سب ہی غریب و مخلص لوگ تھے اور پھر دور کے رہنے والوں کے لیے کیسا عمدہ سبب بن جاتاہے۔( البدر جلد۷نمبر۳ مورخہ۲۳؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۵ ) نماز کسوف اور خطبہ (نوشتہ محمد ظہور الدین اکمل آف گولیکی ضلع گجرات پنجاب) بسم اللہ الرحمن الرحیم ۱۴ ؍جنوری ۱۹۰۷ ء کو مدینۃ المسیح میں نماز کسوف پڑھی گئی۔یہ وہ نماز ہے جس کی نسبت دیہات میں تو کسی کو بھی معلوم نہیں کہ پڑھنی سنت ہے یا نہیں بلکہ پڑھنے والے کو کہتے ہیں ہمارے دین سے نکل گیا۔یہ بھی ہمارے بعض حنفی بھائیوں کی خاص مہربانیوں سے ہے جو وہ بعض سنن رسول مقبول کی نسبت کرتے رہتے ہیں۔خیر یہ سلسلہ احمدیہ تو جاری ہی اسی لئے ہوا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو جاری کرے۔