ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 311 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 311

سوال۔زکوٰۃ کی شرح کیا ہے ؟ نقد پر۔زیورات پر جو نقری یا طلائی ہوں۔زیورات زیراستعمال اور زیورات داشتہ بغیر استعمال پر۔پارچات داشتہ یا زیر استعمال پر۔اراضی کی آمدنی پر جو چاہی ہو۔نہری ہو بارانی ہو اور سیلاب ہو۔پیدا وار ارضی پر جو معافی ہو یا جس کا سرکاری لگان ادا کرنا ہو۔جواب۔نقد پر ۲ فیصدی۔چاندی میں ۴۰/۱ حصہ۔عام استعمال کے زیورات پر زکوٰۃ نہیں۔جو زیورات داشتنی نہیں ان پر زکوٰۃ ہے۔ساڑھے سات تولہ سونے میں ۲ ماشہ سونازکوٰۃ ہے۔پارچات پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔اراضی آمدنی پر چاہی تو ۲۰/۱ نہری میں آبیانہ دینا ہو تو ۲۰/۱ بارانی میں ۱۰/۱ سیلاب میں ۱۰/۱ جو معافی ہے اس کی زکوٰۃ چاہئے۔پیدا وار اراضی جس کا لگان دیا جاوے۔اگر لگان زیادہ ہے تو نہیں اگر شرحمقررہ سے کم ہے تو جس قدر کم ہے اتنی زکوٰۃ دے۔سوال۔اس مال پر جو کسی شخص کو تو جائز وسیلہ وارث سے حاصل ہوا ہو مگر جانتا ہو کہ مورث نے ناجائز طور حاصل کیا ہے زکوٰۃ کا کیا حکم ہے ؟ جواب۔مورث کا ذمہ وار نہیں خود زکوٰۃ دے۔سوال۔اس مال پر جو مثلاً بازاری عورت کو بدکاری سے راشی کو رشوت سے بد دیانت کو فریب سے چور کو چوری سے خائن کو خیانت سے حاصل ہو اہو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ جواب۔ایسے اموال کا رکھنا مومن کا کام نہیں کسی دینی کام میں لگاوے۔سوال۔مصرف زکوٰۃ کیا ہیں اور ان کے درجہ کس طرح ؟ جواب۔قرآن کریم کہتا ہے۔محتاج ہو۔پیشہ جانتا ہو بے سامان ہو۔محصل زکوٰۃ۔مؤلفۃ قلوب۔دینی جہادوں میں۔غلام کے آزاد کرنے میں۔جس پر چٹی پڑگئی ہو۔(نوٹ ازایڈیٹر۔زکوٰۃ ہمیشہ امام کے حضور جمع ہونی چاہئے۔اس لئے احمدیوں کو امین زکوٰۃ فنڈ کے نام بھیجنی چاہئے)