ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 310 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 310

مرہم عیسیٰ کی طرح ان کے کارخانہ میں بعض ادویہ بہت عمدہ ہیں۔نورالدین۔قادیان ۷؍ جولائی ۱۹۰۶ء (البدر جلد۲ نمبر ۳۰۔مورخہ۲۶ ؍جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ۱۶) ضروری اطلاع یہ اطلاع ایک اشد ضرورت کے موقع پر دی جاتی ہے اور وہ یہ کہ زکوٰۃ کا کچھ روپیہ کچھ مدت سے الگ جمع کیا جاتا ہے جس میں سے اس سلسلہ کے بعض غریب طلبہ کی جو کالجوں میں اور اس سکول میں تعلیم پاتے ہیں امداد کی جاتی ہے اور جس میں سے بعض ابن السبیل کے راہ کا خرچ اور غرباء بیکس کا کفن دفن کیا جاتا ہے۔یہ تمام اخراجات اس فنڈ سے کئے جاتے تھے لیکن فنڈ میںاس وقت روپیہ ختم ہو گیا ہے جس سے ان غریب طلبہ اور متذکرہ بالا ضروری اخراجات کے لئے سخت مشکل پڑگئی ہے جو صرف اسی طرح دور ہو سکتی ہے کہ ہر ایک صاحب ذی ثروت اس کام کو اہم سمجھ کر اس کی طرف خاص توجہ کرے اور جو زکوٰ ۃ اس کے ذمہ ہے وہ امین زکوٰۃ فنڈ کے نام جلد ارسال کردے۔کیونکہ دیر سے بہت اخراجات بند پڑے ہیں ان کا تدارک کیا جاوے۔ہم امید کرتے ہیں کہ اگر ہر ایک صاحب ذی ثروت نے کچھ بھی توجہ اس طرف کی تو ان اخراجات کے لئے اتنا کافی سٹاک جمع ہو جائے گا جو کئی مہینوں تک کافی ہوگا۔نور الدین۔امین زکوٰۃ۔( الحکم جلد۱۰ نمبر۳۱۔مورخہ۱۰ ؍ستمبر ۱۹۰۶ء صفحہ۹) زکوٰۃ کا نصاب ، شرح اور مصرف سوال ہے صاحب نصاب ہونے کی مقدار کیا ہے۔مقروض بھی ہو اور صاحب جائیداد بھی تو زکوٰۃ کا کیا حکم ہے ؟ جواب۔مقروض پہلے قرض ادا کرے۔نصاب کے لئے چاندی ۵۲ تولہ اور سونا ساڑھے سات تولہ گائیں تیس یا تیس سے زیادہ اونٹوں میں پانچ ہوں تو اور غلہ جو باہر سے آوے اس کی ۳/۱ یا ۴/۱ کاٹ کر باقی۲۲ من غلہ انگریزی ہو۔