ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 304 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 304

دیکھا۔چونکہ اس اصل پر بحث مقدم ہے جس کے باعث آپ نے مرزا اور مرزائیوں پر مطاعن شروع کئے ہیں اس لئے میں اسی پہلے حصہ کی طرف توجہ کرتا ہوں۔آپ نے مجھ سے فرزندی کا دعویٰ کیا ہے اور حسن ظن کو کام میں لائے ہیں۔اگر یہ حسن ظن اب تک کچھ قائم ہے تو یہ خط بے ریب ایک مخلص انسان کا خط ہے۔جس کو فطرتاً اللہ تعالیٰ پر ایمان اور شرک سے نفرت ہے اور قدرت نے اس کو ایسے سامان دئے کہ جوں جوں وہ ترقی کرتا گیا ساتھ ہی اس کو جناب الٰہی سے محبت اور شرک سے پوری نفرت ہوئی۔گو مجھے ڈر ہے کہ آپ نے جس جو ش سے اخباری دنیا میں پیسہ اخبار سے تعلق پیدا کیا ہے وہ اس میرے مضمون کی طرف متوجہ ہونے سے سد راہ نہ ہو۔کیونکہ ایک قانون الٰہی (ھود: ۱۱۴) ہمیں قرآن میں نظر آتاہے پھر اس کی تصدیق نیچر سے ان بیماریوں میں نظر آتی ہے جن میں ایک آپ کے ساتھ امتحان دینے والا مبتلا ہوا۔اور اس کے لئے اس کی محنت و مشقت نے اپنے نتائج سے اسے محروم کر دیا اور اس طرح کے ہزارہا مصدقات نظر آتے ہیں۔اب میں اصل بات عرض کرتا ہوں۔آپ نے جو قاعدہ نجات کا تجویز کیا ہے وہ آپ کے ان لفظوں سے مجھے معلوم ہوا ہے۔تمام انبیاء ہادیٔ خلائق ہیں نہ مدار نجات۔پھر آپ کہتے ہیںالی آخرہ(الفاتحۃ :۲،۳)۔اس کے علوم پر کون محیط ہو سکتا ہے پھر اس کی رحمت و مغفرت کے لاانتہاء قوانین کسی ایک انسان کے ماتحت کیسے ہوسکتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کونسا شرک ہوسکتا ہے۔اگرچہ آپ کے اس کلام میں مدار نجات کا لفظ گول مول ہے مگر لا انتہا قوانین رحمت و مغفرت کا فقرہ اس کو حل کر دیتا ہے۔ان آپ کے فقرات سے نجات کا دائرہ بہت بڑا وسیع ہے اور تمام الٰہی کتابیں اور تمام رسولوں کی تعلیمات آپ کی اس تحریر سے رد ہو سکتی ہیں کیونکہ خدا کی رحمت مغفرت کی لاانتہاء قوانین ان محدود کتابوں اور محدو د انسانوں کے ماتحت نہیں ہو سکتے۔پس ان کی کارروائی بھی آپ کے نزدیک بہت بڑا شرک ہوا۔پھر آپ نے مرزا اور مرزائیوں کو