ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 2 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 2

کام کیا کرتی ہے۔ہمیں اس بات کے بیان کرنے سے مورد عتاب نہ ٹھہراویں درحقیقت ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام کا یہی حال ہو رہا ہے بہت سے نئے اعتراض ایسے پیدا ہوئے ہیں کہ ہمارے علماء اور فقرا کو اُن کے وجود کی خبربھی نہیں چہ جائیکہ اُن کا جواب دیں ہاں ایسے خوارق کا حوالہ دیا جاتا ہے جوا ب مخالفوں کو محض بطور قصہ کے دکھائی دیتے ہیں اس سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے سو اُن سے کچھ بھی فائدہ مترتب نہیں ہوتا بلکہ اور ہنسی ہوتی ہے۔وہ لوگ تو تازہ بتازہ معجزہ مانگتے ہیں ہاں یہ سچ ہے کہ قرآن شریف معجزہ ہے اور ہم مانتے ہیں کہ یہ بڑا معجزہ ہے اور یہی کافی ہے مگر کون ہے کہ اس کے وجوہ اعجاز کو مخالفوں کے سامنے ثابت کر کے دکھلاوے۔اس کی خارق عادت کمالات منکروں کے سامنے کہہ دیوے۔اس کی چمکتی ہوئی روشنی سے آنکھوں کو خیرہ کر ے۔اس کے بیمثال حقائق و معارف جو چمکتے ہوئے جواہرات کی طرح ہیں خوبصورت رسالوں کی طشتریوں میں پیش کرے۔شاید آپ لوگ نہایت سادگی سے یہ کہیں گے کہ قرآن کے معجزات پیش کرنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ہم اپنے مریدوں کو توجہ دیتے ہیں ان کے قلب جاری کرتے ہیں ان کے دلوں میں ذوق شوق پیدا کر دیتے ہیں مگر صاحبو ہمیں اس وقت اس سچی بات کے کہنے سے معذور سمجھیں کہ یہ اعمال آپ کے اسلام کے لئے کچھ بھی مدد نہیں دے سکتے ہندو بھی اپنے طریق پر یہ سب باتیں کرتے ہیں اور ان کو بھی ذوق شوق حاصل ہو جاتا ہے قلب جاری ہوتے بھی ہم نے دیکھتے ہیں۔توجہ بھی آپ جیسی بلکہ بعض آپ سے بڑھ کر کرتے ہیں ان باتوں میں یورپ کے بعض عیسائیوں کو تووہ کمال ہے کہ اگر اُس کی آپ کو اطلاع ہو تو آپ بہت ہی نادم ہوں بڑی مشکل یہ ہے کہ آپ کو زمانہ کی خبر نہیں۔صاحبو! قصور معاف زمانہ بہت بدل گیا اور یہ نہایت قوی بات ہے کہ پہلے ہی قرآن نے ہی اسلام کی طرف لوگوں کو کھینچا تھا اور اب بھی قرآن ہی کھینچے گا مگر ہمیں ایسے لبوں کی حاجت ہے جن سے قرآن کے انوار قرآن کے خوارق قرآن کے معارف نکلیں تیرہویں صدی کے دکھ محض اس سہارے سے ہم نے برداشت کئے کہ چودھویں صدی کے سر پر ان دکھوں کا علاج پیدا ہو جائے گا مگر اب چودھویں صدی میں سے بھی