ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 289
مجدد ہوئے اور وہ عموماً قریش ہی تھے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر گز یہ نہیں فرمایا کہ میرے بعد کل امام اثنا عشر ہوں گے اور وہ قریش ہوں گے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ قریش سے اثنا عشر ہوں گے اور ان کی نفی یہاں سے ہر گز نہیں مفہوم ہوتی اور یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ یُسْلَبُ الْمُلْکُ مِنْ قُرَیْشٍ بلکہ تشابہ سلسلہ موسویہ سے چاہتا ہے کہ آخری خلیفہ امہات کی طرف اگرچہ قریش یا خصوصاً سادات سے ہو لاکن آباء کی طر ف سے قریش اور سادات سے ہرگز نہ ہو جیسا کہ سلسلہ موسویہ کا آخری خلیفہ اگرچہ والدہ کی طرف سے وہ کچھ ہو لیکن باپ کی طرف سے جو کہ منشاء نسب ہوتا ہے ہر گز اسرائیلی نہ تھا اور اگر ان سب امور کو ہم پس پشت ڈال دیں تو پھر یہ بھی تو حدیث ہے کہ سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ (المستدرک للحاکم ، کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم، ذکر سلمان الفارسی رضی اللّٰہ عنہ) اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ نبوت اور خلافت راشدہ کے واسطے قرآن مجید نے کیا کچھ لکھا ہے۔رسول اور امام کہو یا خلیفہ کہو وہ ہوتا ہے کہ جس کی قبل از بعثت زندگی لوگوں کے نزدیک ازکیٰ و اطہرا ور یا یوں کہو کہ بے عیب زندگی ہوتی ہے تا کہ بعثت کے بعد ان کے لئے وہ حجت ٹھہرے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے(یونس : ۱۷) اور صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش وغیرہ کو بلا کر دریافت کیا تھا کہ اگر میں کہوں کہ دشمن تمہاری گھات میں ہے اور صبح کے وقت تم پر شب خون کرے گا تو کیا تم تسلیم کرو گے۔تو سب نے بالاتفاق کہا کہ مَاجَرَّبْنَا عَلَیْکَ الْکَذِبَ۔دوم۔یہ کہ اس پر خدا کی وحی نازل ہو اللہ کریم نے فرمایا ہے (النساء : ۱۶۴) اور پھر فرمایا (الکہف : ۱۱۱) سوم۔یہ کہ بعض غیبوں پر اس کو اطلاع دی جائے تاکہ ثابت ہو جاوے کہ بیشک یہ