ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 288 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 288

جائے اور پھر خدا وند کریم خود اپنے فعل سے اور تائید سے اس کی شہادت دے دے تو یہ امر مسلم ہے لاکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے شیعہ کے ائمہ اثنا عشر میں جیسا یہ امر معدوم یا کالعدم ہے اور ایسا کسی امام میں نہیں ہوا اور غالباً اس کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح عیسائیوں نے مسیح کو خدا بنانا تھا تو خدا وند کریم نے اس قدر کمزور ییں اس میں رکھ دیں جو کہ اس کی خدائی کو پاش پاش کر دیتی ہیں۔اسی طرح چونکہ شیعہ نے اپنے ائمہ اثنا عشر کو بڑا بنانا تھا اس وجہ سے عدم تائید کا سیاہ داغ ان کی پیشانی پر لگا دیا تاکہ یہ بت اپنا پول خود ظاہر کر دے۔باقی رہا بحین حیات استخلاف ہونا یا بعض اختیارات رسالت میں شریک ہونا مشعر اطاعت وغیرہ یہ سب ایسے امور ہیں جو کہ قرآن مجید میں ہر گز نہیں ہیں۔نمبر۹ میں آپ نے لکھا ہے کہ ازروئے حدیث صحیح اثنا عشر خلیفہ کلّہم قریش سے ہوں یہ حدیث فریقین کی مسلّم ہے سنّت جماعت کے جس قدر خلیفہ ہیں قریش سے ہیں۔سنیئے قرآن مجید نے ہر گز یہ نہیں فرمایا کہ وہ قریش سے ہوں گے اور نہ یہ فرمایا کہ وہ اثنا عشر ہوں گے ہاں اس میں شک نہیں کہ حدیث میں آیا ہے لاکن حدیث میں قریش آیا ہے۔سادات یاعلوی یا حسنی ہر گز نہیں آیا۔پس اگر یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی مانی جاتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ائمہ اثنا عشر سادات سے تسلیم کئے جاتے ہیں اور باقی قریش اور خصوصاً بنی عباس کو نہ ان میں شمار کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف تو ائمہ اثنا عشر کی قریش سے ہونے کی خبر دی ہے اور ایک طرف فرمایا ہے کہ ہر ایک صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ ایک مجدد مبعوث فرمائے گا جو کہ دین کی تجدید کرے گا۔پس اگر انسان تھوڑی سی غور کرے تو وہ ائمہ اثنا عشر کا پتہ ان دو حدیث سے لگا سکتا ہے کیونکہ اب چودھویں صدی ہے۔پہلی صدی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی ہوئی اور بموجب تشابہ سلسلہ محمدیہ اور سلسلہ موسویہ چودھویں مسیح موعود کی ہوئی اور باراں صدیوں کے بارہ امام