ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 287 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 287

ر قربت قریبہ شرط ہے تو یقیناً ڈگری یہود کے حق میں ہے۔ہاں یہاں پر آپ ایک کہہ سکتے ہیں کہ رسالت کے واسطے قربت قریبہ شرط نہیں البتہ نیابت کے واسطے شرط ہے۔جیسا کہ آپ نے لکھا ہے لیکن یہ غلط ہے کیونکہ جب غیر قربت قریبہ والے کو اکمل چیز مل سکتی ہے تو ادنیٰ چیز کیوں نہیں مل سکتی حالانکہ نہ رسالت موروثی چیز ہے اور نہ نیابت موروثی ہے۔رسالت کے واسطے یہی  (البقرۃ : ۹۱)ا ور نائب کے واسطے بھی فرمایا ہے  (النور : ۵۶) اور یہ کن کو کہا ہے عام مومنوں کو نہ کہ خاص قربت قریبہ والوں کو۔پس یہ شرط قرآن کے مخالف ہے اور خدا کے فعل کے بھی برخلاف ہے کیونکہ فرمایا تو یہ کہ میں خلیفہ بناؤں گا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت کے بعد کس کو بنایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پھر حضرت عثمانؓ کو۔پس جس امر کو خدا کی کتاب اور فعل ردّ کردیں وہ ہر گز قابلِ اعتبار نہیں ٹھہر سکتا۔نمبر۸ میں آپ نے لکھا ہے کہ کوئی حکم خدا و رسول کا نسبت امامت اور خلافت اس کے صادر ہوا ہو یا بحین حیات نبی معاملہ استخلاف اس کا وقوع میں آیا ہو بعض اختیارات رسالت میں مشارکت ہو یا نبی نے اس کے بارہ مُشعر اطاعت وغیرہ امت کو حکم دیا ہو۔سنیئے اگر اس کے معنے یہ ہیںدین شخصی کر کے حکم خدا یا حکم رسول اس کی نسبت پہلے صادر ہو چکا ہو۔تب تو یہ غلط ہے کیونکہ کسی رسول کے واسطے ایسا نہیں ہوا ور نہ اس کے موقع پر کبھی نزاع نہ ہوتا مثلاً اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت لکھا ہوا ہوتا کہ ان کا نام فلاں ہوگا اور فلاں قوم سے اور فلاں بستی اور فلاں محلہ اورفلاں مکان میں فلاں وقت میں فلاں مرد سے فلاں عورت کے پیٹ سے پیدا ہوں گے وغیرہ وغیرہ تو پھر کب نزاع واقع ہو سکتا تھا مگر ہر گز ایسا نہیں ہوا بلکہ کبھی کسی کے واسطے ایسا نہیں ہوا کیونکہ ایمان کی حد سے عیاں کے حیز میں آجاتا ہے اور وہ محل ثواب نہیں رہتا ہے۔اور اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ بعض صفات بیان کر کے مجمل رنگ میں اس کی بعثت کی خبر دی