ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 270
حبّہ باقی نہیں رہا۔اس نے مجھ سے مہر شرعی روپیہ (بتیس روپے دو آنے)لے لیا رسید لکھ دی لہٰذا چند کلمہ بطریق طلاق نامہ کے لکھ دیئے کہ سند ہوں اور وقت حاجت کام آویں۔المرقوم۔۲۵؍ مارچ ۱۹۰۵ء گواہ شد العبد گواہ شد زید الجواب آج کل کچھ پوشیدہ اعتراض کے لئے اکثر مسائل علماء کے پاس بھیجے جاتے ہیں اصل نامعلوم کیا ہوتا ہے بظاہر جو کچھ معلوم ہوتا ہے اس کے مطابق حضرت صلعم کے زمانے کا ایک واقعہ لکھتا ہوں۔نسائی کی کتاب الطلاق میں ہے اَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ اِمْرَأَتَہٗ ثَلَاثَ تَطْلِیْقَاتٍ جَمِیْعًا مِنَ التَّغْلِیْظِ فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ اَ یُلْعَبُ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَ اَنَا بَیْنَ اَظْھُرِکُمْ حَتّٰی قَامَ رَجُلٌ وَ قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَ لَا اَقْتُلُہٗ اور ذیل کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص تین طلاق یکبارگی دے دے تو شرع میں ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے اس کے متعلق صفائی سے اسی کتاب کے بین لکھا ہے اَنَّ الثَّـلَاثَ کَانَتْ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَ اَبِیْ بَکْرٍ وَ صَدْرًا مِنْ خِلَا فَۃِ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا تُرَدُّ اِلَی الْوَاحِدَۃِ(سنن نسائی کتاب الطلاق باب طلاق الثلاث المتفرقۃ قبل الدخول بالزوجۃ حدیث نمبر ۳۴۰۶) نور الدین ۲؍ ستمبر ۱۹۰۵ء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم کیا حکم فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ سماع موتیٰ میں جب انسان فوت ہوجاوے تو مردہ سنتا ہے یا نہیں یا قبروں میں جاکرسلام علیکم کہا جاتا ہے وہ اس کا جواب سن کر دیتے ہیں یا نہیں اس مسئلہ میں جو صحیح مسئلہ ہے قرآن و حدیث سے مرقوم فرما کرمرحمت فرماویں۔السائل محمد ولایت شاہ عفی عنہ از مقام راہوں ضلع جالندھر تحصیل نواں شہر