ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 271
الجواب نسائی مطبوعہ مطبع مصر کی جلد اول باب ارواح المؤمنین صفحہ ۲۹۳ کی شرح میں امام جلال سیوطی نے ایک لمبی بحث اس کے متعلق لکھی ہے اس میں لکھا ہے قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی عِنْدَ قَبْرِیْ سَمِعْتُہٗ وَ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ نَائِیًا بُلِّغْتُہٗ اور اسی کے باب التسھیل فی غیر السبتیۃ میں ہے قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَتَوَلّٰی عَنْہُ اَصْحَابُہٗ اِنَّہٗ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِھِمْ صفحہ ۲۸۸۔اور اسی مضمون کو شرح بلوغ المرام سبل السلام جلد اول ص۳۰۲ میں مفصل لکھا ہے اور سبل السلام جلد اول ص۲۰۶میں ہے کہ جب کوئی قبرستان میں سے گزرتا ہے اور وہ سلام کہتا ہے تو وہ اس کے سلام کو سنتے ہیں اور ان کو دعاؤں سے نفع بھی ہوتا ہے جس کو سبل السلام کے ص۳۰۶ اور ص ۳۰۳ میں مفصل بیان کیا ہے۔وَاقْرَؤُوْا عَلٰی مَوْتَاکُمْ یٰسِیْن کا ارشاد بھی کیا ہے جس کی تفصیل انہیں صفحوں میں لکھی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ایک قسم کا ادراک اور سماع ہے۔مگر قبور پر بیٹھ کر قرآن کریم پڑھنا شریعت میں ثابت نہیں۔نبی کریم تمام صحابہ کرام کو احب الناس تھے مگر آپ کی قبر پر کسی صحابہ کا قرآن کریم بیٹھ کر پڑھنا ثابت نہیں ہوتا بلکہ نسائی جلد اوّل ص۲۸۷میں ہے۔قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاَنْ یَّجْلِسَ اَحَدُکُمْ عَلٰی جَمْرَۃٍ حَتّٰی تَحْرُقَ (ثِیَابَہٗ) خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ اَنْ یَّجْلِسَ عَلٰی قَبْرٍ سے ایک قسم کی نہی مطلق کا استنباط ہوتا ہے۔نور الدین ۲ ؍ستمبر ۱۹۰۵ء۔( الحکم جلد۹ نمبر ۳۷۔مورخہ۲۴؍ اکتوبر۱۹۰۵ء صفحہ۷،۸) وعظ بعد از نماز جمعہ (۳؍ نومبر ۱۹۰۵ء بروز جمعہ) آج حضرت مولوی نورالدین صاحب کا وعظ بعد از نماز جمعہ ہوا۔حضرت مولوی صاحب نے یہ ثابت کیا کہ کس طرح باوجود اختلافات کے جو دنیا میں پائے جاتے ہیں وحدت بھی پائی جاتی ہے اور قرآن شریف اور احادیث سے ثابت کیاتھا کہ انسان کے راہ حق سے محروم رہنے کے کیا کیا اسباب ہیںاور وفات مسیح کے کیا کیا دلائل ہیں۔(البدر جلد۱ نمبر۳۴ مورخہ۸؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳)