ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 266 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 266

یا ۱۰ ماہ کا عرصہ گذرا ہے۔پس اس سے زیادہ کیا لکھوں۔زیادہ حد ادب۔جواب طلب ضروری۔سب احباب کی خدمت میں سلام مسنون الراقم کمترین محمد الدین از چینیاں ریاست فرید کوٹ امام مسجد۔الجواب نسائی کی کتاب الطلاق میں یہ ایک واقعہ لکھا ہے بَابُ الثَّلاَثِ الْمَجْمُوْعَۃِ وَمَا فِیْہِ اَخْبَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ اِمْرَأَتَہُ ثَلَاثَ تَطْلِیْقَاتٍ جَمِیْعًا مِنَ التَّغْلِیْظِ فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ اَ یُلْعَبُ بِکَتَابِ اللّٰہِ وَ اَنَا بَیْنَ اَظْھُرِکُمْ حَتّٰی قَامَ رَجُلٌ وَ قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلَا اَقْتُلُہٗ۔۲۔پھر قرآن کریم میں (البقرۃ : ۲۳۰) ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ طلاق یک دفعہ نہیں دینی چاہئے۔احادیث اور آثار جو اس باب میں ہیں ان کے پڑھنے سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ ایک بار تین طلاق دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔پس جب اس کوتین طلاق شرعی ابھی تک نہیں دی گئیں پھر اس لمبے حاشیہ چڑھانے کی کیا ضرورت ہے حلالہ کے متعلق اس باب میں نسائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد نقل کیا۔لَعَنَ اللّٰہُ الْمُحِلَّ وَ الْمُحَلَّلَ لَہٗ۔نسائی باب احلال المطلقۃ ثلا ثا صفحہ ۹۸ اور نسائی بَابُ طَلَاقِ الثَّلَاثِ الْمُتَفَرِّدِ قَبْلَ الدُّخُوْلِ بِالزَّوْجَۃِ صفحہ۹۶ جلد اوّل میں ہے اَنَّ الثَّـلَاثَ کَانَتْ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلْعَمْ وَ اَبِیْ بَکْرٍ وَ صَدَرًا مِنْ۔۔۔عُمَرَ تُرَدُّ اِلَی الْوَاحِدَۃِ۔نور الدین ۲ ؍ستمبر ۱۹۰۵ء