ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 265
نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم جناب حضرت اقدس امام آخرالزمان دام اقبالہ السلام علیکم کے بعد غلامان وفدویان سے گذارش ہے آنحضرت کی صحت خداوند سے نیک خواستگار۔ایک شخص نے اپنی زو جہ کو تین طلاق مسجد میں بیٹھ کر رو برو دو گواہوں کے کہہ دیں۔لڑکے کا ارادہ تو نہیں تھا مگر قاضی کی شرارت تھی۔قاضی کے کہنے سے اس لڑکے نے تین طلاق کہہ دیں۔گواہ ایک تو مسجد کا درویش تھا اور ایک زمیندار تھا اور لڑکی کو بالکل خبر اس بات کی نہ تھی جب طلاقیں ہو چکیں تو پھر لڑکی کو خبر ہوئی تو لڑکی بہت روئی اور چلانے لگی پھر کیا ہوتا تھا بعد ہونے طلاق کے دس یا بارہ روز کے بعد پھر نکاح کیا گیا اور لڑکی پیدا ہوئی اور پھر اس لڑکی کو گھر سے نکال دیا اور پھر جھگڑا پڑ گیا۔اس لڑکے نے تو لڑکی کو گھر سے جدا کر دیا مگر لڑکی بہت نیک تھی۔اب لڑکی کہتی ہے میں اس گھر کے سوا اور کسی گھر میں نہیں جاتی اور دوسرا خاوند اختیار نہیں کرتی جب طلاق ہوچکی تو اس وقت مہر کا ذکر تک نہیں ہوا اور ایک سو روپیہ مہر کا ہے اب وہ لڑکی اپنے والد اور والدہ کے پاس ہے اور بہت فساد مچ رہا ہے۔اب اس مسئلہ کا کس طرح پر حکم ہے۔نکاح ہوسکتا ہے یا کہ نہیںہوسکتا۔اگر ہو سکتا ہے تو کس طرح ہو سکتا ہے آیت اور حدیث کے ساتھ لکھ کر روانہ کریں تاکہ یقین کامل ہووے جو آنحضرت کی طرف سے فتویٰ ہو گا اس پر عمل کیا جاوے گا اور نکاح کا اور مہر کا کس طرح حکم ہے۔لڑکی والوں نے لاہور خط لکھا تھا وہاں سے فتویٰ آیا اس پر کچھ اعتبار نہیں اور مولوی غلام احمد صاحب مدرس مدرسہ نعمانیہ لاہور فتویٰ لکھتے ہیں کہ نکاح ہر گز نہیں ہوسکتا۔فتاویٰ عالمگیری جلد ۲ صفحہ ۵۹ کا حوالہ دیتے ہیں اور مولوی عبد الواحد بن مولوی عبداللہ صاحب غزنوی مرحوم امام مسجد چینیاں والی لاہور فرماتے ہیں کہ نکاح فاسد نہیں ہوتااور پھر ہو سکتا ہے اور کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیتے۔حضرت عمر ؓ کا کچھ کسی طرح کا جھگڑا بتاتے ہیں اور جو شخص حلالہ کرے اور پھر طلاق دے دیوے تو اس پر مہر کا کیا حکم ہے اور حلالہ کس و جہ سے ہوسکتا ہے اور لڑکی پیدا ہوئی کو