ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 250 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 250

ان کے علاج کی طرف متوجہ کراؤں۔میں حضرت حکیم الامت کی پاک زندگی پر غور کرنے کا کافی موقع نہیں پا سکا تھا میں اتنا ہی جانتا تھا کہ ایک جلیل القدر انسان ہے اولادکی خواہش فطری خواہش ہے یہ رجوع کرے گا۔میں نے جب اس معاملے کو پیش کیا تو جو جواب مجھے دیا اس نے میرے ایمان کو بہت بڑھا دیا۔اصل جواب حضرت حکیم الامت کے ہاتھ کا لکھا ہوا میرے پاس موجود ہے اس کا مفہوم اور مطلب یہ ہے کہ مجھے محض اولاد کی کوئی بھی خواہش نہیں ہے کئی اولادیں ہوئیں اور مر گئیں۔ہاں مجھے اولاد صالح کی بے شک خواہش اور ضرورت ہے اگر کسی کے پاس ایسی اولاد کا نسخہ ہو تو میں ہزاروں ہزار روپیہ دینے کو طیار ہوںلاؤ۔حضرت حکیم الامت کو قرآن شریف سے جو محبت اور مناسبت ہے وہ ان کی آشنا دنیا سے چھپی ہوئی نہیں۔قرآن شریف آپ کی غذا ہے بیماریوں کے حملہ سے اٹھ کر پہلا علاج آپ درس کے اجراء سے کیا کرتے ہیںجو گویا بیماری کی گئی ہوئی قوت کے اعادہ کے لیے یاقوتی ہے۔پس حکیم الامت کی ایسی پیاری اور محبوب کتاب کو ان کا بچہ پڑھ لے تو ان کی خوشی کس حد تک پہنچ سکتی ہے یہ خوشی محض اس لیے نہیں کہ بچہ ہوشیار ہو گیا ہے یا تعلیم کی طرف توجہ کرنے لگا ہے بلکہ محض اس لیے کہ اس نے خدا کی کتاب پڑھی ہے۔عبد الحی جب قرآن شریف ختم کر کے آیا تو اسے کیا فرمایا میںاپنے الفاظ میں درج کرتاہوں۔بیٹا! ہم تم سے دس باتیں چاہتے ہیں ان میں سے۱۰ /۱ آج تم نے کر لی ہیں۔قرآن شریف پڑھو اور پھرا س کو یاد کرو۔پھر اس کا ترجمہ پڑھو۔پھر اس پر عمل کرو۔پھر اسی عمل میں تمہیں موت آجائے۔قرآن شریف پڑھاؤ پھر یاد کراؤ۔پھر ترجمہ سناؤپھر عمل کراؤ پھر اسی حالت میں تم کو موت آجاوے۔یہ دس نصیحتیں اور خواہشیں بتا سکتی ہیں کہ حکیم الامت اپنی اولاد کے لیے کیا چاہتا ہے اس میں نہیں ہے کہ تم فلاں عہدہ حاصل کرو یا دنیا کے فلان صیغہ میں ترقی کرو بلکہ قرآن شریف اس پر عمل اس کی خدمت ساری زندگی کی غرض بتائی کیا مبارک ہے وہ باپ جس کی یہ خواہش ہے اور کیسا مبارک ہے وہ بچہ جس کے باپ کے یہ ارادے ہوں۔(اے اللہ ہم کو بھی ایسی ہی پاک خواہشیں عطا کر۔آمین)