ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 251
اس نصیحت کو سن کر چھ سالہ بچہ کیا کہتا ہے ’’ابا جی میں نے یہ قرآن شریف تو پڑھ لیا ہے پہلے یہ تو کسی مسکین کو دے دو۔‘‘ حکیم الامت کا دل ان کلمات کو سن کر اور بھی خوش ہوا۔غرض یہ تقریب تھی خوشی کی اب اس کے اظہار کے لیے حکیم الامت نے کیا سوچا اور کیا کیا۔اس کے اظہار کے لیے مختلف طریقے احباب نے پیش کیے۔کسی نے کہا کہ یسرنا القرآن قاعدہ کی طرز پر قرآن شریف چھپوایا جاوے۔کسی نے کہا تفسیر لکھی جاوے۔حکیم الامت نے فرمایا کہ جو حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماویں وہ مبارک ہوگا۔اس میں بتایا کہ آپ نے کس طرح پر رضائے امام کو اپنی خواہشوں پر مقدم کرلیا اور کامل طور پر اس عہد کو نباہا ہے جو اس کے ہاتھ پر کیا ہے۔(اے اللہ ہمیں بھی توفیق دے۔آمین)حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ چونکہ مولوی صاحب کی طبیعت کمزور ہے کوئی دماغی محنت کا کام مناسب نہیں ہے سردست مساکین کو کھانا کھلا دیں اور احباب کی دعوت کر دیں۔چنانچہ ۲۸ اور ۲۹ ؍جون ۱۹۰۵ء کو ایسی دعوت دی گئی یہاں تک تو جو کچھ ہوا ہوا۔میںنے حضرت حکیم الامت کی خدمت میں عرض کی کہ میں چاہتا ہوں کہ اس تقریب پر مدرسہ تعلیم الاسلام میں ایک حافظ قرآن جو عمدہ پڑھنے والا ہو مقرر کیا جاوے جو قرآن شریف یاد کرائے۔فرمایا میرا بھی دل چاہتاہے اللہ تعالیٰ جو چاہے گا کرے گا۔چونکہ کالج کے بند کرنے کا آپ کو بہت بڑا صدمہ ہے۔اس لئے میری تحریک پر آپ نے نہایت انشراح صدر اور خوشی کے ساتھ پسند فرمایا کہ کالج فنڈ میں ایک سو روپیہ نقد عطا فرمائیں جو دیا گیا۔یہ ایک فقرہ ہے جس پر میں قوم کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے گھروں میں بھی آئے دن خوشی کی تقریبیں ہوتی رہتی ہیں جن پر ہم صد ہا روپیہ صرف کر دیتے ہیں۔لیکن نہیں سوچتے کہ اس روپیہ کے مصرف کیا اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی نصرت اور تائید کے لیے ہیں؟ (الحکم جلد۹ نمبر ۲۳مورخہ ۳۰؍ جون۱۹۰۵ء صفحہ ۵)