ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 249
کہ بیرونی عارضی طور پر ایک خاص دار کے رہنے والے اور وہاں کے اصلی باشندے تباہ ہوجائیں گے۔آخر ۴؍ اپریل کو اس کا ظہور ہوا اب دیکھیں جو دیکھنے کی آنکھیں رکھتے ہیں اور سنیں جو سننے کے کان رکھتے ہیں۔فقط۔نور الدین (الحکم جلد ۹ نمبر۱۳ مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) شیرازہ قوم مضمون کی نسبت رائے حضرت حکیم الامت کے حضور میں نے اس مضمون کا مسودہ پیش کیا تھا آپ نے اسے نہایت غور سے پڑھا اور اپنے قلم سے اس پر مندرجہ ذیل رائے لکھ دی۔میں اس آگہی کو بہت ہی ضروری یقین کرتا ہو ں گو میرا دل ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ ہماری قوم محدود ہو۔ہم ابراہیم کی اولاد ہوں جو گنی نہیں جاسکتی۔مگر سردست اس آگہی کی ضرورت ہے اور وہ ضرورت ان شاء اللہ تعالیٰ بعد کو ظاہر کی جاوے گی۔نور الدین (الحکم جلد ۹ نمبر۱۹ مورخہ ۳۱؍ مئی۱۹۰۵ء صفحہ ۶) حکیم فضل الرحمنؓ کی حکمت و طب کی نسبت رائے میںتصدیق کرتا ہوں کہ فضل الرحمن میرے تجارب سے واقف ہے اور خوب واقف ہے۔بعض خطرناک بیماریوں نفث الدم اور دق میں اس نے بڑی جان فشانی سے علاج کیا اور کامیاب ہوا۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر وہ تقویٰ سے کام لے گا تو اس کو خود بھی اور اس کے باعث بہت لوگوں کو نفع پہنچے گا۔الٰہی میرا گمان سچ ہو۔آمین۔نور الدین (الحکم جلد ۹ نمبر۱۹ مورخہ ۳۱؍ مئی۱۹۰۵ء صفحہ ۱۳) بیٹے کے ختم قرآن کی خوشی کے اظہار کا مبارک طریق حضرت حکیم الامت سلمہ اللہ تعالیٰ کے بچے عبد الحئی سلمہ اللہ نے ۲۷؍ جون ۱۹۰۵ء کو قرآن شریف ختم کیا۔یہ تقریب حضرت حکیم الامت کے لئے ایک خوشی کی تقریب ہے… حضرت حکیم الامت کے کئی بچے فوت ہو چکے تھے اس پر مجھے ایک طبیب نے کہا کہ میں حکیم الامت کو