ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 24 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 24

غریب اور امیر میں ہے یا بیمار اور تندرست میں کیونکہ غریبی اور بیماری کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور ان تین اشیا ء میں تبادلہ بھی محال ہے۔تناسخ والے انصاف سے غور کریںکہ کیونکر اور کس وجہ سے یہ تفرقہ ہوا۔خدا تعالیٰ کیوں ابدی حکمران ہے اور ارواح کیوں ہمیشہ محکوم ہیں۔اگر اعمال کے لحاظ سے ہیں تو خدا اور ارواح میں بھی جنم ماننا پڑے گا اور اگر انہیں جنم نہیں تو ثابت ہوا کہ بدوں جنم کے اور اور اسباب بھی تفرقہ کا باعث ہیں۔یہ بحث بہت طویل ہے۔چاہتی ہے اس پر کتاب لکھی جاوے۔اس لئے خط میں اس پر بس کرتا ہوں۔نور الدین۔۶؍مئی ۱۸۹۸ء (الحکم جلد ۲ نمبر ۱۲،۱۳مورخہ ۲۰۔۲۷ ؍مئی ۱۸۹۸ء صفحہ ۳،۴ ) میر حسین علی کا خط اور اس کا جواب کوئٹہ۔۱۰؍مئی ۱۸۹۸ء حضور اقدس السلام علیکم۔میرے ایک مسلمان دوست کے دل میں سوال پیدا ہوا ہے کہ جب کوئی حاکم یا استاد اپنی رعایا یا شاگرد کو کسی قصور کے واسطے سزا دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آئندہ کے واسطے اس کو ہدایت ہو اور اسے معلوم رہے کہ اگر میں نے اس فعل کا اعادہ کیا تو پھر بھی ا سی طرح مستوجب سزا ٹھہروں گا۔لیکن جس صورت میں کہ ہم جانتے ہیں کہ قیامت کے بعد پھر ہمیں ایسی دنیا میں نہیں بھیجا جائے گا جہاں رہ کر ہم رو ز قیامت کی اس سزا سے جو ہمیں اس دنیا کے گناہوں کے واسطے دی جائے گی فائدہ اٹھاویں۔اس واسطے ظاہر ہے کہ قیامت میں جو سزا ہم کو موجودہ گناہوں کے واسطے ملے گی آئندہ کی زندگی کے واسطے باعث عبرت نہیں ہو سکتی لہٰذا معلوم ہونا چاہئے کہ پھر اُس سزا سے کیا مفاد نکلتا ہے؟