ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 239 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 239

وَاَدْعِیَۃُ الْحَدِیْثِ کِفَایَۃٌ۔۱۷۔وَمِنَ التَّعَاوِیْذِ فِی الْمُعَوَّذَتَیْنِ کِفَایَۃٌ۔۱۸۔اَ لَا تَزُوْرُوْھَا عَامَ فِیْ جَمِیْعِ الْقُبُوْرِ۔۱۹۔عَنْ جَرِیْر اَنَّہُ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَ مَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ ثُمَّ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَ مَسَحَ عَلٰی خُفَّیْہِ متفق علیہ۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ اَنّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم تَوَضَّأَ وَ مَسَحَ عَلٰی جَوْرَبَیْنِ وَ النَّعْلَیْنِ۔صَحَّحَہُ الْتِرْمَذِیْ۔۲۰۔مثنوی اوردیوان حافظ عمدہ نظم ہے۔صاحب مثنوی صوفی اور فلسفی ہیں۔۲۱۔سید عبد القادر الجیلی عمائد اولیاء اللہ سے ہیں۔قَدَ مِیْ عَلٰی رَقَبَۃِ کُلِّ وَلِیٍّ شاید ان کا قول ہو اور اپنے زمانے کے اولیاء پر ان کوفضیلت ہو۔۲۲۔مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالَا یَعْنِیْہِ۔(ابن ماجہ کتاب الفتن باب کف اللّسان فی الفتنۃ حدیث نمبر ۳۹۷۶) وَا تِّبَاعُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھُوَ الدِّیْنُ۔۲۳۔تاریخی کتابیں میں نے آج تک ایسی نہیں دیکھیں کہ ان میں قوی و ضعیف صحیح و غلط سب کچھ ہی نہ ہو۔۲۴۔مدینہ کو یثرب کہنا شرعًا جائز نہیں۔۲۵۔دلائل الخیرات سے بہتر وہ صلوٰۃ و سلام ہے جو نماز میں ہے اور اجازت الٰہی صلوۃ وسلا م کے لئے ہو چکی ہے دلائل الخیرات اجازت کی محتاج نہیں اور نہ یہ اجازت کوئی چیز ہے۔۲۶۔مسلمانوں اور حضرت ابو الملت ابراہیم علیہ السلام نے کفار کو ابتداء ً سلام فرمایا ہے۔(القصص : ۵۶) اور فرمایا ہے (مریم:۴۸)۔