ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 228 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 228

صاحب فضل شخص ہے کہ نہیں؟کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ برگزیدوں سے ہی کلام کرتا ہے شریر اور بدکار اس کے خطاب کے مستحق نہیں ہوتے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے (البقرۃ :۲۵۴) یہاں اس امر کی تخصیص ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ رسولوں یا رسول صفت انسانوں سے ہی کلام کرتا ہے۔مسئلہ تقدیر پر نوٹ (الاعراف: ۲۹،۳۰) جب یہ لوگ کچھ برا کام کرتے ہیں اور اس پر کوئی ملامت کنندہ ملامت کرتا ہے تو جواب میں کہا کرتے ہیں کہ ہمارے آباواجداد بھی اسی طرح کرتے آئے ہیں۔اس لئے یہ بات فحش نہیں اور بعضے یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا نے ہی ان باتوں کاا مرکیا ہے اور اپنے دعوے کے اثبات میں بعض آیات شرارت سے پیش کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کا ردّ فرماتا ہے کہ خدا کی شان کے یہ بات شایان ہی نہیں کہ وہ فحش کا امرکرے تم کو تو صفات الوہیت کا علم ہی نہیں جو خدا کی طرف ان باتوں کو منسوب کرتے ہو۔خدا کا امر تو ہمیشہ عدل اور انصاف پر مبنی ہوتا ہے جس میں کسی قسم کے جبر و اکراہ کو دخل نہیں۔ (الاعراف: ۳۵) اس آیت کے معنے سمجھنے میں لوگوں نے غلطی کھائی ہے عام طور پر اس کے معنے یہ لکھے ہوئے ہوتے ہیں کہ ہر ایک امت کا ایک وعدہ ہے جب وہ وعدہ آگیا تو اس میں نہ دیر کریں گے ایک گھڑی اور نہ جلدی۔اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ جب عذاب آہی گیا تو اب جلدی کیا۔بلکہ اس کے معنے یہ ہے کہ ہر ایک امت کے لئے ایک میعاد یا وقت تنزل کا ہوتا ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو آنے والے عذاب کو ایک گھنٹہ بھی پیچھے نہیں کر سکتے۔اور اس وقت کیا یعنی قبل از وقت نزول آگے بھی نہیں کرسکتے کا عطف۱ِ کے اوپر ہے۔