ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 227
ثابت ہوتے ہو حالانکہ یہ خبر ظنی ہے۔پنجابی مثل ہے کہ ماں جانے باپ کو۔پس ایک عورت کی خبر ہی بعض اوقات یقینی ماننی پڑتی ہے اور اس کا راوی نہ نبی نہ صحابی نہ تابعین سے ہے۔والسلام نور الدین ( الحکم جلد ۹ نمبر۶ مورخہ ۱۷؍ فروری۱۹۰۵ء صفحہ ۱۱) قال اور کلام سورہ اعراف میں جو ابلیس کا قصہ درج ہے اور عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ اور ابلیس کے درمیان گفتگو ہوتی رہی اس پر میں نے سوال کیا کہ یہ کلام کس طرح ہوئی تھی؟ جناب مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہماری جماعت میں سے اکثر لوگوں کویہ علم نہیں کہ جب کوئی سوال کرے تو اس پر غور کرے اور دیکھے کہ آیا خوداس کا سوال درست بھی ہے کہ نہیں۔جھٹ سائل کے رعب میں آکر اس کا جواب د ینے کی کوشش کی جاتی ہے مثلاً یہی سوال ہے کہ اس میں ابلیس اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کلام کا ذکر ہے۔حالانکہ سارے قرآن شریف میں کلام کا لفظ آیا ہی نہیں تھوڑی سی بحث کے بعد یہ امر قرار پایا کہ اردو زبان اصل میں ناقص ہے جو کہ عربی کلام کے مفہوم کو پورے طور پر ادا نہیں کر سکتی اور پھر آپ نے سوال کا مفہوم سمجھ کر جواب کی طرف توجہ کی۔قَالَایک ایسا لفظ ہے جو کہ عربی زبان میں صرف کلام اور مخاطبہ پر ہی نہیں بولا جاتا بلکہ اظہار حالت پر بھی استعمال ہوتا ہے مثلاً ایک ضرب المثل ہے قَالَ الْجِدَارُ لِلْوَتَدِ لِمَ تَشُقُّنِیْ قَالَ سَلْ مَنْ یَّدُقُّنِیْ دیوار نے میخ کو کہاتُومجھے پھاڑتی ہے تومیخ نے کہا کہ آپ اس سے سوال کریں جومجھے کوٹتا ہے۔اسی طرح کلام کے لفظ کے ساتھ بھی جب تک تکلیمًا وغیرہ کا لفظ نہ ہو یا قرائن نہ ہوں تب تک اس کے معنے بھی زبان سے کلام کرنے کے نہیں ہوتے جیسا کہ قرآن شریف میں ہے (النساء :۱۶۵) تکلیمًا کے لفظ نے یہاں اس امر کو صاف کیا ہے کہ ضرور مکالمہ ہی تھا۔اس امر کے سمجھنے کے لئے کہ کون سا ایسا مقام ہوتا ہے کہ وہاں قال کا لفظ ہو اور اس کے معنے کلام الٰہی کے ہوں۔یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا اللہ تعالیٰ کا مخاطب کوئی اس کا برگزیدہ اور